کیا اردو اپنا مقام حاصل کرسکے گی؟ (از: راشد کامران)
نکتہ نظر کے عنوان سے منظر نامہ پر اظہار خیال کی دعوت پر سب سے پہلے تو منتظمین کا شکریہ۔ وسیع موضوع پر اختصار کے ساتھ کوشش ہوگی کے میں اپنا نقطہ نظر بیان کرسکوں۔ اختلاف رائے انسان کا پیدائشی و بنیادی حق ہے اور کسی بھی قسم کی رائے کا اظہار بلا تامل کرکے تصیحکا موقع فراہم کریں۔
مقدمہ:
کیا اردو اپنا مقام حاصل کرسکے گی؟ اس سوال سے سب سے پہلا تاثر تو یہ ابھرتا ہے کے جیسے ہم اردو کی نشاۃثانیہ یا کسی کھوئے ہوئے مقام کی بات کررہے ہوں جو زبان کو کسی طرحدوبارہ حاصل کرنا ہے۔ میری ناقص رائے ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ اردو زبان دنیا کی دوسری زندہ زبانوں کے مقابلے میں کافی نئی زبان ہے اور اپنی پیدائش کے ساتھ ہی یہ ایک ایسی قوم کی زبان رہی ہے جو بدرجہ تنزلی کی طرف مائل رہی ہے ۔ اردو اس طرحکبھی بھی سرکاری یا دفتری زبان نہیںرہی جسطرح اسکے جد امجد عربی یا فارسی اور نہ ہی اس میں ادب کا اتنا تنوع اور وسیع ذخیرہ پایا جاتا ہے جیسا کے بیشتر دوسری زبانوں میں اور جدید دور کے مضامین اور سائنس کے لحاظ سے تو یہ گویا بانجھ ہی شمار ہوگی۔
پس منظر۔
اردو ایک انڈو آرین زبان مانی جاتی ہے جو مغل بادشاہوں کے دور میں مختلف زبانوں خصوصا عربی، فارسی اور ترکی بولنے والے مختلف لوگوں کے درمیان پروان چڑھی ۔ شاہجہاں کے دہلی میںلال قلعے کی تعمیر کے بعد سے “اردو” کا لفظ مستعمل ہوا جو دراصل ترکی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی فوج کے ہیںاور اسی لیے اسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے ‘الف’۔ بنیادی طور پر پورے مغل دور میں درباری زبان فارسی اور مذہب کی زبان عربی رہی ہے اور اشرافیہ کی زبان بھی فارسی ہی رہی ہے۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیںکے مغلوں کی اپنی زبان فارسی زدہ ترکش رہی ہے ۔ خیال رہے کے کسی بھی زبان کی ترقی کے لیے اسکا اشرافیہ کے اندر سرایت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 1739 میں خیال کیا جاتا ہے کے اردو کو درباری یا سرکاری زبان کا درجہ ملا ’ب‘ لیکن خوشامدی شاعری یا نوحوںیا مرثیوں سے آگے کچھ بھی اس زبان میں تعمیری تخلیق نہ ہوسکا یہاںتک کے نوہندوستان میں نو آبادیاتی دور آپہنچا۔
’الف‘ http://en.wikipedia.org/wiki/Urdu#History
’ب‘ http://sun.menloschool.org/~sportman/westernstudies/first/1718/2000/cblock/mughal/social.html
مغلوں کا زوال اور انگریزی دور
مغل دور کے خاتمے اور انگریزوں کے ہندوستان میںمکمل راج قائم ہوتے ہوتے اردو کو مسلمانوںکی زبان مانا جانے لگا تھا اور مغلوںکے ورثے میں مسجدوں اور مقبروںکے علاوہ ایسی کوئی چیز بھی موجود نہیں تھی جو زبان کے اصل ترقی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ مثلا کوئی ایک اعلی پائے کی یونیورسٹی شاید ہی مغلوں سے منصوب کی جاسکے جہاں اردو زبان کو علوم و فنون کی زبان کے طور پر ڈھالا جاتا۔ بنیادی طور پر میں اس بات کا قائل ہوںکے اقتدار کے اس دور میں اگر تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں پر توجہ دی جاتی اور اردو کو ذریعہ اظہار بنایا جاتا تو شاید ہم اس بحث میں نہ الجھے ہوتے۔ The Empire Of the Great Mughals میں درج ہے کے 1800 میں فورٹ ولیم کے کلکتہ میںقیام کے وقت کلکتہ اردو کا ایک اہم مرکز رہا ہے انگریزوں کے لیے لچھے دار فارسی اور خوشامدی اردو کی عملی حیثیت نہ ہونے کے برابر تھی اور بالآخر 1835 میںانگریزی کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ ’الف‘
’الف’ سرکاری زبان انگریزی
اردو کا مقام
اب اگر ہم اپنی بحث کو سمیٹنا شروع کریں تو درج ذیل باتوں پر اتفاق کیا جاسکتا ہے۔
- اردو زبان مجموعی طور پر ایک بہت ہی نئی زبان ہے اور عربی اور فارسی زبانیں جن کا ہزار سالہ ورثہ موجود ہو اور انگریزی جو تاج برطانیہ کی زبان رہی ہو سے تقابل فی الوقت درست نہیں
- اردو بنیادی طور پر لشکری اور عام لوگوں کی زبان ہے اور اشرافیہ میں اسے کبھی وہ پذیرائی حاصل نہ ہوسکی جو زبان کی اعلی سطح کی ترقی کے لیے ضروری ہے ۔
- اردو زبان ابتداء سے ہی محکوم طبقے کی زبان رہی ہے اور عربی اسکرپٹ میں موجود اردو کو عموما مسلمانوں کی زبان ہی مانا گیا ہے اور زبان کی پیدائش سے آج تک اردو زبان بولنے والے جدید علوم و فنون سے کسطرح کنارہ کش رہے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں
- علی گڑھ یا اسطرح کی دوسری تحریکوں کے علاوہ ایسا کوئی ریفرنس نہیں ملتا جب اردو کسی طور پر تعلیمی زبان رہی ہو، نہ ہی رائج علوم و فنون کو اردو میں منتقل کرنے کی کبھی بھی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ خصوصا آج کی تاریخ میںاردو میں سائنسی یا تکینکی مضامین پڑھانا قریبا نا ممکن ہے۔
- اردو ادب میں بھی اگر آپ بڑے نام تلاش کرنے کی کوشش کریں گے تو غالب گمان ہے کے ایک صفحے سے زیادہ درکار نہ ہوگا اس میں سے بھی عالمی سطح پر جانا یا مانا جانے والا کام خال خال ہی ملتا ہے۔
- ہندوستان کی سطح پر مذہب کے پرچار کے لیے عام لوگوں کی زبان اردو کا بہت استعمال کیا گیا ہے جسکے شاید کچھ مثبت اثرات بھی پڑے ہوں لیکن اسے ایک حقیقت ماننا ہوگا کے عربی سے نا بلد اردو بولنے والوں کے درمیان اس مذہبی ادب نے فرقہ بندی کی جڑیں دنیا کے کسی بھی اور خطے سے کہیں زیادہ گہری کی ہیں۔
- تحریک پاکستان اور پاکستان کے آغاز سے لے کر آج تک سرکاری سطح پر اردو کی حیثیت گھریلو ملازمہ سے زیادہ کی نہیں رہی اور پاکستان جس کی سرکاری زبان اردو قرار پائی جغرافیائی طور پر اس ملک میںایسا کوئی خطہ شامل نہ تھا جہاں لوگوں کی مادری زبان اردو ہو چناچہ ابتدائی طور پر مہاجرین کی زبان مانی گئی۔
- موجودہ پاکستان میں کسی کا تعلمی معیار اسکی انگریزی قابلیت سے جانا مانا جاتا ہے چناچہ نئی نسل کے لیے انگریزی کی مہارت اہم ٹہری اور اردو لڑائی جھگڑے اور مارکٹائی کی زبان بن کے رہ گئی جبکہ سنجیدہ تعلیم اور روزگار انگریزی سے وابستہ ہوکر رہ گیا۔
ان تمام باتوں کے بات ہم دراصل کس مقام کی بات کررہے ہیں؟ ہاں۔ ہم حقیقت کو مانتے ہوئے اسکے لیے کوئی مقام طے کریںاور اس کے لیے کام کریںتو مناسب بات معلوم ہوتی ہے ورنہ میری رائے میں۔۔ سارے جہاں میں ہماری زبان کی دھوم کبھی بھی نہیںرہی بلکہ مظلوموں اور محکوموں کی ایسی زبان ہے جس میں نوحے ، مرثیے اور عورتوں کے تعریفوں کے کچھ زیادہ تخلیق نہیںکیا گیا۔۔ ایک آدھ مثتثنیات بلا شبہ موجود ہونگی لیکن ایک آدھ لوگوںسے زبان نہیںبنتی بلکہ اسکے لیے ایک قوم درکار ہوتی ہے جو زبان پر فخر کرتی ہو جبکہ ہمارے یہاں صرف اردو دانی پر ایک چپراسی بھی ملازم بھرتی نہیںہوسکتا زبان کیونکر ترقی کرے؟
راشد کامران
May 21, 2008 بوقت 4:09 pm
راشد کامران صاحب آپ نے منظر نامہ کی آواز پر جتنی جلدی لبیک کہا اس سے آپ کی نظر میں اس موضوع کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے بہرحال آپ نے موضوع پر گفتگو کا ابھی آغاز کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ گفتگو مزید آگے نکلے گی اور کئی زاویے سامنے آنے کے بعد آپ چند حوالوں سے شاید اپنی رائے بدل لیں۔
اردو کے مقام کے حوالے سے چند نکات پر میں بھی کچھ تحریر کروں گا لیکن فی الوقت آپ کی تحریر تبصرہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے چند ایسے نکات اٹھائے ہیں جو مجھے حیرانگی میں مبتلا کر گئے ہیں جیسا کہ آپ نے پہلے ہی پیراگراف میں ایک ایسا جملہ لکھ دیا ہے جس نے مجھے تبصرے پر مجبور کیا کہ
===============================================
اردو اس طرحکبھی بھی سرکاری یا دفتری زبان نہیںرہی جسطرح اسکے جد امجد عربی یا فارسی اور نہ ہی اس میں ادب کا اتنا تنوع اور وسیع ذخیرہ پایا جاتا ہے جیسا کے بیشتر دوسری زبانوں میں اور جدید دور کے مضامین اور سائنس کے لحاظ سے تو یہ گویا بانجھ ہی شمار ہوگی۔
===============================================
انتہائی حیران کن بات ہے کہ اردو ادب میں جتنا شاعری و نثر کا ذخیرہ ہے اتنا تو اس کی ہم عمر کسی زبان میں موجود نہیں، خصوصاً اسلامی مواد جتنا اردو میں موجود ہے اس کا مقابلہ سوائے عربی اور فارسی کے کوئی زبان نہیں کر سکتی بلکہ اسلامی ادب میں وہ فارسی مواد کے مقابل کھڑی ہے۔ ہاں البتہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جدید دور کے مضامین کے لیے اردو میں مواد بہت کم ہے لیکن اسے بانجھ قرار نہیں دیا جا سکتا، اردو بہت زرخیز زبان ہے بس اس کے لیے کام کرنے والے اپنے ذہنوں کو زرخیز بنائیں۔
===============================================
کسی بھی زبان کی ترقی کے لیے اسکا اشرافیہ کے اندر سرایت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 1739 میں خیال کیا جاتا ہے کے اردو کو درباری یا سرکاری زبان کا درجہ ملا لیکن خوشامدی شاعری یا نوحوںیا مرثیوں سے آگے کچھ بھی اس زبان میں تعمیری تخلیق نہ ہوسکا یہاںتک کے نوہندوستان میں نو آبادیاتی دور آپہنچا۔
===============================================
کچھ لوگ اسے غریبوں کی زبان کی کہتے ہیں اور کچھ اسے مسلمانوں کو عربوں اور فارسی سے دور کرنے کی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ ایک سازشی زبان کس طرح قبولیت عام حاصل کر سکتی ہے، سرکاری سطح پر نافذ کی جانے والی زبان غالب اور اقبال تو کجا ایک بشیر بدر اور وصی شاہ بھی پیدا نہیں کر سکتی اس لیے یہ حملہ تو خود ہی ناکارہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب میں یہ بات بھی آپ پر واضح کردوں کہ زبان کی اعلٰی سطح پر ترقی کے لیے اس کی اشرافیہ میں پذیرائی ضروری نہیں، اردو اور دیگر تمام زبانوں پر اعلٰی سطحی کام مڈل کلاس کے لوگوں نے کیا۔
مجھے اس بات پر تو بہت ہی زیادہ حیرت ہوئی کہ آپ سرے سے اردو کے تعلیمی زبان ہونے سے ہی انکاری ہیں، محترم! جامعہ عثمانیہ نامی کوئی چیز بھی ہوتی تھی ریاست حیدرآباد میں جہاں ایم بی بی ایس کی تعلیم تک اردو زبان میں دی جاتی تھی اور تعلیم مکمل ہونے کے بعد صرف 6 ماہ کے انگریزی زبان کے کورس کے لیے ڈاکٹروں کے انگلستان بھیجا جاتا تھا تاکہ وہ انگریزی اصطلاحات کے بارے میں جان سکیں اور اس کورس کی تکمیل کے بعد انہیں سند سے نوازا جاتا تھا۔ اب ہم خود ہی اپنے ماضی سے ناطہ توڑ لیں اور اس کی تمام نشانیوں کو چھوڑ دیں تو زبان اور ورثے کا کیا قصور؟
اور اردو میں تکنیکی مضامین پڑھانا فی الوقت مشکل تو ضرور نظر آتاہے لیکن اگر سرکاری سطح پر اصطلاحات سازی کے عمل کا آغاز کیا جائے اور انہیں عملاً نافذ کیا جائے تو اگلے 15 سے 20 سالوں کے اندر آپ کو نتائج نظرآئیں گے۔
===============================================
ہمارے یہاں صرف اردو دانی پر ایک چپراسی بھی ملازم بھرتی نہیںہوسکتا زبان کیونکر ترقی کرے؟
===============================================
اس جملے پر تو مجھے بہت زیادہ اعتراضات اور تحفظات ہیں، محترم اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ تنخواہ دینے والے ادارے ذرائع ابلاغ سے وابستہ ٹی وی چینل اور اخبارات وغیرہ ہیں جو اردو سے نابلد افراد کو کھڑے کھڑے باہر نکال دیتے ہیں اور انہی افراد کی قدر ہوتی ہے جو زبان و بیان کو زیادہ بہتر انداز میں جانتے ہیں البتہ یہ تسلیم کرتا ہوں کہ اس کا معیار بھی روز بروز گرتا جا رہا ہے اور انگریزی زدہ اردو کا غلبہ ہے لیکن اس کے باوجود اچھی اردو لکھنے اور بولنے والوں کی قدر ہے۔
ان باتوں کے علاوہ میں آپ کی تمام باتوں سے بالکل متفق ہوں، اگر تبصرے میں کوئی بات بری لگے تو میں بہت معذرت خواہ ہوں۔
May 21, 2008 بوقت 9:31 pm
ابوشامل صاحب وقت نکال کر تبصرے کا شکریہ۔۔ معذرت اور بری لگنے والے کوئی بات ہی نہیں اس بلاگ کا مقصد ہی مباحثہ ہے اور اس میں رنگ ہی اس وقت آئے گا جب مختلف الآراء لوگ تبادلئہ خیال کریںگے۔۔ کچھ چیزوںکی وضاحت کرنا چاہوںگا جو میں غالبا مناسب طرح بیان نہیں کرسکا۔
1۔ شاعری کے ذخیرے کی جب ہم بات کرتے ہیںتو ہم تک بندی اور نہانے دھونے والے شاعری کی بات نہیںکرتے۔۔ آپ شروع سے آخر تک شاعروں کی فہرست نکال لیں۔۔ میر اور غالب سے شروع فیضاور فراز پر ختم ہوجائے گی۔۔ اور وہی ہم ابتدائی جماعتوں سے پڑھتے چلے آرہے ہیں۔۔ نثر میں تو ابھی تک یہی طے نہیںہو کے اردو نثر ہوگی کیا۔۔ زیادہ تر خیالات دوسری زبانوں کے مصنفوںکے ہیں غزل طرز کی اصل چیز کوئی نہیں۔
2۔ اشرافیہ کی زبان نہ ہونے کی وجہ سے زبان کی ترقی کے لیے درکار وسائل استعمال نہیںہوسکتے۔۔ اقبال، غالب اور وصی شاہ کے حالات بھی دیکھیے اور دوسری زبانوں کے لکھنے والوں کے حالات بھی دیکھیے اور یہ تقابل کریں کے اشرافیہ بہر حال معاشرے پر اثر ڈالتی ہے اور عام لوگ اس کی تقلید کرتے ہیں۔ ہمارا شاعر اور مصنف تو اپنا گھر نہیںچلا سکتا۔۔
3۔ جامعہ عثمانیہ کوئی تھی تو اسکی المنائی کہاںگئی؟ کیوں طب کو اردو میںمنتقل نہیںکیا گیا؟ وجہ سادہ سی ہے کے طب کہیں بہت آگے نکل چکا تھا اور جامعہ عثمانیہ کے طالب علموں کو چھے مہینے انگلستان جانا پڑتا تھا نا کے انگلستان کے طالب علموں کو جامعہ عثمانیہ۔۔ کیونکہ اردو تعلیمی زبان کبھی رہی ہی نہیں۔
4۔ اردو میں پروفیشنل تعلیم اور میدانوں کے لیے اصطلاحات ہی موجود نہیں کام ملنا تو دور کی بات ہے ۔ اردو نیوز چینلز کے میزبانوں کا اردو جاننا غالبا ایک اثتثناءہے بصورت دیگر حالات ہمارے سامنے ہیں۔ سو پچاس نیوز ریڈرز کی جاب کے علاوہ کیا ہوگا؟ بینکنگ؟ معاشیات؟ آئی ٹی، میڈیکل، میکینیکل؟ دوسری انجینرئنگ؟ آپ کیسے اردو میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور جاب حاصل کرسکتے ہیں؟ جذباتی حد تو کہنا آسان ہوگا۔۔ عملی نہیں ہے۔
اصل مسئلہ جو میں سمجھا ہوں وہ اردو نہیں۔۔ اصل مسئلہ ہمارا فارسی اور خصوصا عربی سے ناطہ توڑنا۔۔ کیونکہ علم کا ماخذ یہ زبانیں تھیں نہ کے اردو۔ ہمارا ناطہ عربی سے توڑکر انگریزی سے جوڑ دیا گیا۔۔ چناچہ دوسرا ماخذ انگریزی بن گیا اور وہی اشرافیہ کی زبان اور ہمارے آئین کی زبان۔۔ اردو کبھی علم کا ماخذرہا ہی نہیں۔۔ یہ صرف نوسٹیلجیا ہے۔
May 22, 2008 بوقت 4:28 pm
ماشاء اللہ! بہت ہی عمدہ اور معلوماتی تحریر اور اس پر نہ صرف ابوشامل کا جواب خوبصورت ہے بلکہ راشد کامران کی جانب سے اپنے مؤقف کے حق میں مزید دلائل سونے پہ سہاگہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس موضوع پر راشد کامران کی جانب سے سب سے پہلے تحریر کا لکھا جانا فروغ اردو کے حوالہ سے ان کی سنجیدہ سوچ کا مظہر ہے۔
۔۔۔۔۔
عمار
May 22, 2008 بوقت 4:45 pm
سب کچھ پڑھنے کے بعد ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قصور ہمارا ہے زبان کا نہیں ۔ اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ دماغ پر سے مغربی تہذیب کا خول اُتر نہیں پاتا ۔
کچھ حقائق کا اظہار ضروری ہے
ہماری بہت سی عدالتون کی زبان اُردو ہے ۔ درخواستیں اُردو میں دی جاتی ہیں اور بحث بھی اُردو میں کی جاتی ہے ۔
پچھلے نو سال کا حال معلوم نہیں اس سے قبل کے چھبیس سال کم از کم صوبہ سرحد کی اسمبلی میں صرف اُردو ہی بولی جاتی رہی ۔ اس کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان کی اسمبلیوں میں بھی زیادہ تر اُردو بولی جاتی رہی ۔ قومی اسمبلی میں اُردو اور انگریزی دونوں بولی جاتی رہیں ۔
May 23, 2008 بوقت 3:58 am
[...] منظر نامہ میں نکتہ نظر کے موضوع پر اس سلسلے میں اپنی پچھلی پوسٹ میں ، میں نے اردو کی تاریخی پس منظر میں اس مقدمہ کو [...]
May 23, 2008 بوقت 2:50 pm
شکریے کا بہت شکریہ راشد صاحب۔
میرے خیال میں آپ کی بہت ساری باتیں مفروضات پر مبنی ہیں اور بہرحال ایک زوال پذیر قوم اور اس کی زوال پذیر زبان کا دفاع کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔
میرے خیال میں جب اردو کو ہم borrowed language کہتے ہیں تو پھر یہ شکوہ بھی درست نہیں کہ اردو میں شاعری و نثر کی اپنی کوئی صنف نہیں۔ کیونکہ میری ادب پر نظر بہت گہری نہیں اس لیے شاید مثالوں کے ساتھ آپ کو نہ بتا سکوں لیکن آپ کا یہ شکوہ میں بیجا نظر آتا ہے۔
آپ کے نکتہ نمبر 2 کے جواب میں اتنا کہوں گا کہ غالب تو بلاشبہ میرے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن اقبال تو اچھے خاصے خوشحال تھے۔ لیکن غالب طبقۂ غریباں سے ہونے کے باوجود اردو شاعری پر کتنا گہرا اثر رکھتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف طبقہ اشرافیہ ہی نہیں بلکہ اچھا کام بھی زبان اور اس کے چاہنے والوں پر اثرات ڈالتا ہے۔ البتہ یہ تو دائمی تصور ہے کہ دولت مند طبقہ یا بااثر طبقہ کا ہر کام معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے چاہے وہ بودوباش ہو یا وضع قطع یا پھر زبان۔ تیسری بات یہ کہ آجکل اگر شاعر اور مصنف اپنا گھر نہیں چلا سکتا تو اس کا سبب اردو کے ساتھ روا رکھا جانے والا من حیث المجموع ہمارا رویہ ہے۔ حکومتی سطح پر اردو دانوں کی سرپرستی نہیں کی جا رہی تبھی وہ لوگ شاعری چھوڑ کر کلرکی اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
جامعہ عثمانیہ کے حوالے سے آپ نے ایک عجیب منطق اختیار کی ہے، برادر پورے 3 سے 4 سال کی تعلیم اردو میں حاصل کی جاتی تھی اور پھر اس کے بعد “صرف انگریزی اصطلاحات” جاننے کے لیے انگریزی زبان کا ایک کورس ہوتا تھا اب آپ 4 سالوں کی تعلیم پر ان 6 ماہ کو اہمیت دیتے ہیں تو اس میں اردو کا قصور نہیں۔ جامعہ عثمانیہ کا کام آج بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اردو وکیپیڈیا پر ایک صاحب استعمال بھی کررہے ہیں لیکن بات وہی ہے کہ بجائے حوصلہ افزائی کہ ہر طرف سے طعن و تشنیع کے تیر برسائے جاتے ہیں کہ اردو وکیپیڈیا پر نہ سمجھ میں آنے والی اردو استعمال کی جاتی ہے۔
آپ نے اپنی تمام گفتگو کا جو اصل لباب پیش کیا ہے وہی اردو کا اصل مسئلہ ہے اور میں اس سے بالکل متفق ہوں کہ اردو کو اگر دوبارہ زندہ ہونا ہے تو اس کو اپنا تعلق فارسی اور عربی سے جوڑنا ہوگا۔ ایک لشکری زبان لازماً جدید اصلاحات کے لیے انہی زبانوں کی محتاج ہوگی جن سے اس کا خمیر اٹھا ہے اس لیے میری ذاتی طور پر ہمیشہ سے یہی رائے رہی ہے کہ عربی اور فارسی میں ہونے والے وسیع ترین کام سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور ان کی اصلاحات کو بعینہ یا مناسب تبدیلی کر کے اردو میں شامل کر لیا جائے۔
آخر میں آپ سے صرف اتنا عرض کروں گا کہ آپ ایک مرتبہ اردو وکیپیڈیا کا دورہ ضرور کریں، وہاں اہم ترین علوم کو اردویانے کا کام بہت اعلٰی پیمانے پر کیا جا رہا ہے، خصوصاً طب اور ریاضی میں اچھا خاصا کام کیا گیا ہے۔ آپ درج ذیل ربط سے اردو وکیپیڈيا پر جا سکتے ہیں:
http://ur.wikipedia.org/wiki/
May 23, 2008 بوقت 9:02 pm
ایک ہی بات کہنا چاہونگا کہ اردو کو قومی زبان کس نے بنا دیا؟ ہم میںسے کتنے لوگ گھروں میںاردو بولتے ہیں اور جب بنگالی اپنی شناخت کیلئے چیخ رہے تھے تو بنگلہ بولنے والے زیادہ تھے یا اردو بولنے والے؟
اردو کا جو مقام آج ہے ہمیشہ سے تھا، ہم نے عربی اور فارسی سے ناطہ توڑ لیا جسکی سزا آج تک مل رہی ہے۔ اردو کی ترقی و ترویج کیلئے پہلے تو اسے لوگوں کے دلوں میں گھر کرنا ہو گا، ذرا کسی سندھی، پٹھان بلکہ پنجابی پر بھی اپنی اردو آزمائیے تو اندازہ ہو جائے گا کہ لوگوںنے نزدیک اسکا کیا مقام ہے۔ زبان لوگوں کیلئے ہوتی ہے، لوگ زبان کیلئے نہیں۔ آخری بات کہ اگر اردو کو ہر حال میںترقی دینی ہی ہے تو اسکے لیے بہت سے لوگ، کثیر رقم اور وقت درکار ہو گا کہ دنیا بہت آگے نکل کئی ہے۔ کئی صدیاںتو حالیہ علم کے ترجمے میںہی خرچ ہو جائیں گی۔
May 23, 2008 بوقت 10:40 pm
فیصل صاحب موضوع پر تبصرے کا شکریہ۔۔ میں نے دوسرے جز میں قومی زبان اردو کے معاملات پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور میں سمجھتا ہوں اردو کو قومی زبان بنانا ہی دراصل جمہوری اصولوں کے منافی تھا کیونکہ یہ اکثریت کی زبان نہیںتھی۔ اگر وقت نکال سکیں تو اس پر اپنے خیالات سے ضرور آگاہ کریں
July 13, 2008 بوقت 3:01 am
[...] 1۔ راشد کامران 1 [...]
August 3, 2008 بوقت 4:29 pm
[...] لئے میں منظرنامہ کا شکر گزار ہوں کہ وہاں شائع ہونے والے راشد کامران، ابوشامل اور وارث صاحب کی تحاریر نے مجھے متاثر کیا۔ [...]