کیا اردو اپنا مقام حاصل کر سکے گی؟ آخری جز (از: راشد کامران)

تعارف
منظر نامہ میں نکتہ نظر کے موضوع پر اس سلسلے میں اپنی پچھلی پوسٹ میں ، میں‌ نے اردو کے تاریخی پس منظر میں اس مقدمہ کو پیش کرنے کی کوشش کی تھی کے اردو تعلیمی زبان نہیں رہی اور اشرافیہ میں بھی اس طور اردو کی پذیرائی نہیں‌ہوسکی جو زبان کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ساتھ ساتھ مسلمانوں سے اسکا ناطہ جڑ جانے کی وجہ سے ایک مغلوب قوم کی زبان بھی ٹہری اور بالاخر بر صغیر پاک و ہند کی ایک اہم زبان ہونے کے باوجود دفتری اور سرکاری سطح پر پنپ نہ سکی۔ اس سلسلے کی اس آخری پوسٹ‌ میں میری کوشش ہے کے کچھ سیاسی اور سماجی اسباب کا تجزیہ کیا جائے تاکہ ہم اردو کے موجودہ مقام کا تعین کرسکیں اور آنے والے دنوں میں اس کی ترقی کے لیے کیا کوششیں‌کی جاسکتی ہے۔

تجزیہ
سیاسی یا سماجی تجزیہ کرنے کے لیے سب سے پہلے تو اس بات کو سمجھ لیں‌ کے اردو دراصل کھڑی بولی کی ایک مستند شاخ ہے ۔‌متحدہ ہندوستان کے وسطی اور شمالی حصوں میں رہنے والے کثیر لوگوں کی زبان اور مستند ہندی، دکنی اردو، جدید اردو اور ریختہ اسی کھڑی بولی اور ہندوستانی کی مستند شاخیں یا قسمیں ہیں۔ کسی بھی لہجے کو اختیار کرنے والے ایک دوسرے کی بات بڑی آسانی سے سمجھ لیتے ہیں‌ لیکن ریختہ دراصل وہ زبان ہے جو شاعری یا ادب کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے اور بہت زیادہ فارسی زدہ ہے جبکہ مستندی ہندی دراصل سنسکرت زدہ کھڑی بولی یا ہندوستانی ہے۔ (الف) میں جس نکتے کی طرف اشارہ کرنے جا رہا ہوں اسکے لیے یہ بات نہایت اہم ہے کے دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری بالی وڈ دراصل جس زبان میں فلمیں بناتی ہے وہ بھی ہندوستانی ہی ہے جو مستند لہجہ بولنے والے تمام لوگوں میں‌یکساں سمجھی جاتی ہے (ب)۔ اب صورتحال یہ ہے کے دو مختلف رسم الخطوط اپنانے کی وجہ سے اصل زبان کھڑی بولی کی دو بڑی شاخیں وجود میں‌آگئ جس میں ہم ایک دوسرے کی بات تو سمجھ سکتے ہیں لیکن ایک دوسرے کا لکھا نہیں پڑھ سکتے۔ اسکی وجہ سیاسی اور مذہبی زیادہ رہی ہے۔ اور اس چیز نے فارسی زدہ اردو کو ہندوستان کے مسلمانوں کی زبان کا درجہ دے دیا اور شاید دو قومی نظریہ زبان کو سیاسی طور پر تقسیم کرنے کا باعث بن گیا۔ (ج)

الف ۔۔ کھڑی بولی
ب ۔۔ اردو اور بالی وڈ
ج۔۔ اردو :‌ایک زبان کی تقسیم

اس پس منظر میں تقسیم ہند کے بعد ریاست پاکستان وجود میں آگئی جس کی قومی و سرکاری زبان اردو مقرر کی گئ۔ پوری دیانت کے ساتھ میں‌یہ بات کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کے ایک ایسا خطہ جس میں‌ جغرافیائی طور پر کوئی ایسا علاقہ شامل نہ تھا جس کی اپنی زبان اردو ہو اور نہ ہی یہ اکثریتی زبان تھی اردو کو قومی زبان مقرر کرنے سے اولا تو جمہوری عمل یعنی اکثریت کی حکمرانی کا تصور پہلے دن ہی مسخ ہوگیا کیونکہ اصولا بنگلہ زبان اکثریتی زبان تھی اور نہ ہی یہ کسی ایسے خطے کی زبان تھی جو اب پاکستان کہلاتا ہے۔ گویا اردو نہ تو اکثریت کی زبان تھی اور نہ ہی کسی بھی ایسے خطے کی زبان جو صوبوں کو طو پر پاکستان میں‌ شامل کیے گئے چناچہ اس سے نہ صرف یہ کے اردو ایک اجنبی سرزمین پر تھی بلکہ آگے چل کر کچھ معاملات بنگلہ دیش کے قیام کا باعث بھی بنے۔

دوسری طرف سرکاری زبان بنانے کے باوجود ہنوز تمام کے تمام سرکاری کام انگریزی میں ہی انجام دیے جاتے ہیں (شناختی کارڈ اور کچھ اور چیزیں چھوڑ کر تمام سرکاری اعلانات انگریزی میں ہی جاری ہوتے ہیں) ‌اور انگریزی سے نا بلد لوگ کسی صورت بھی سول اشرافیہ بیوروکریسی یا نوکر شاہی کا حصہ نہ بن سکتے تھے اور نہ بن سکتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ کے پاکستان کا آئین بھی انگریزی زبان میں‌ہی لکھا ہوا ہے یعنی اگر عدالتوں‌میں آپ اردو نافذ بھی کردیں‌تو آئین اور تعذیرات کا تمام کام انگریزی میں ہی ہو سکے گا۔ جیسا کے میں نے پہلے بھی عرض کی کے مغلوں کا سارا ورثہ مسجد اور مقبروں تک محدود ہے اور فلاحی بہبود کے تمام بڑے منصوبے انگریزی دور میں ہی بنے جیسے کے کلکتہ اور کراچی جیسے شہروں کی تعمیر نو، ہندوستان میں ریلوے کا نظام اور ڈاک کی ترسیل کا مربوط ا نظام تو یہ کیسے ممکن تھا کے یہ کام کسی ہندوستانی زبان میں کیے جاتے چناچہ انگریزوں کے زمانے سے ہی جدید اور عوامی سطح کے تمام محکموں کے خدوخال اور عہدے انگریزی زدہ ہیں‌ اور لائل پور کو فیصل آباد کردینے سے فیصل آباد کا ثقافتی اور تاریخی ورثہ تو برباد ہوا لیکن اردو کو کوئی فائدہ نہ پہنچ سکا۔

انگریزی دور کے تربیت کے تمام طور طریقے ، فوج، پولیس اور ڈسٹرکٹ سطح کا نظام بھی اس وقت سے کم و بیش جوں‌کا توں ہے چناچہ عہدے اور رینک سب کے سب انگریزی ہی رہے اور اس طریقے سے پاکستان میں‌ طبقاتی نظام کی بنیاد پڑھ گئی جو انگریزی اور اردو متوازی تعلیمی نظاموں پر منتج ہوئی۔ اور عام عوام میں بھی اس کشمکش سے انگریزی کی اہمیت حد سے زیادہ بڑھ گئی اور مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے بھی انگریزی زیادہ اہم ٹہری۔ کتاب اور ادب پڑھنے کا رجحان بھی آہستہ آہستہ معاشی ناہمواری کی بھینٹ چڑھتا رہا اور ادیبوں، دانشوروں کے کام کا معیار بھی ایک خاص سطح سے نیچے آنا شروع ہوگیا ہے اور اب ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک خلاء ہے اور شاید اس پیڑی کے بعد ایک پائے کا شاعر اور مصنف تک دستیاب نہ ہوگا جو چار سطریں شستہ و شائستہ اردو میں لکھ سکے کیونکہ مارکیٹ‌سے اس چیز کی طلب ہی ختم ہوگئی۔ ٹی وی ڈرامے جو کسی زمانے میں نہ صرف یہ کے عام لوگوں کے حالات کے صحیح‌ عکاس بلکہ نہایت ہی عمدہ اردو میں لکھے جاتے تھے اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں اور انکی جگہ انگریزی اور اردو کے ایک بے ڈھنگے ملاپ نے لے لی ہے جو نہ انگریزی بولنے والے کو سمجھ آتے ہیں نہ اردو بولنے والے کو۔ حکومت کی سطح پر تو مسائل ہی دوسرے رہے ہیں وہاں اردو کے فروغ کی نوبت کہاں‌ آتی۔۔ ادنی معیار کا ایک وفاقی اردو کالج قائم کرکے حکومت گویا اپنے فرض‌سے سبکدوش ہوگئی۔ اور اردو کے علمبرداروں کی یہ حالت ہے کے سال چھ مہینے میں‌ایک اسٹیڈیم میں مشاعرہ منعقد کرلیا جس میں کئی شاعروں کے تلفظ تک درست نہیں ہوتے تو گویا فرض ادا ہوا۔

اردو زبان کے اخبارات اور ٹی وی چینلز کی بھرمار کے باوجود ابھی تک کہیں سے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی کے انفارمیشن کے اس دور میں اردو کو کسطرح دوسری زبانوں‌کے مقابل لا کر کھڑا کیا جائے۔ کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے تو پھر سرمایا سگا نہ سہی ایجاد کا سوتیلا باپ ضرور ہوتا ہے اور فی الحال انفارمیشن ایج میں اردو کی ترقی کے لیے جو سرمایہ درکار ہے وہ یہ کارپوریشنز دبا کر بیٹھی ہوئی ہیں اور اپنے اخبارات کی تصویریں انٹر نیٹ پر اپ لوڈ‌کر کے یہ خیال کیا جاتا ہے کے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہے اور جب کوئی من چلا اپنے محدود وسائل کے ساتھ لمبے عرصے کی محنت کے بعد کوئی نئی ٹیکنالوجی بنا لے گا تو یہ بھی اسے استعمال کر لیں‌گے‌ورنہ جیسا چل رہا ہے چلنے دو۔ دوسری زبانوں‌ کی ایسی صورت حال نہیں ہے اور نو آبادیاتی زبانوں کو چھوڑ ہندی، عربی، فارسی تک کے لیے نہ صرف یہ کے اچھے مشینی مترجم دستیاب ہیں بلکہ لکھنے، پڑھنے اور ترقی کے لیے سرمایہ لگانے والا ایک وسیع طبقہ بھی موجود ہے۔

نتائج
اس ساری سنجیدہ اور خشک گفتگو کا مقصد صرف اتنی سی بات کرنا تھا کے ان تمام حالات کے حساب سے اردو جہاں بھی پہنچی ہے وہ بھی ایک معجزے سے کم نہیں ۔ میرے حساب سے اردو کا کوئی مقام تھا ہی نہیں بلکہ ہمیں اب یہ مقام طے کرنا ہے۔ اردو کے لیے انٹر نیٹ اور عمومی سطح پر شعور اجاگر کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش اگر کہیں ہورہی ہے تو وہ اس چھوٹی سی آن لائن کمیونٹی تک محدود ہے۔ کیا آپ نے کہیں اس پر کوئی مذاکرہ سنا یا آپ نے کسی سیاستدان کو اس پر بات کرتے دیکھا؟‌ کیونکہ ہماری ترجیحات ہی کچھ اور ہیں۔ جو حکومت منصف کو انصاف فراہم نہیں کر سکی، جو قوم علامہ اقبال کی نثر سے واقف نہیں‌اور ان کو صرف شاعر جانتی ہے اور جس زبان کا شاعر اپنی شاعری سے چند ہزار روپے نہیں کما سکتا اسکی ترقی کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اردو کو انٹرنیٹ پر اور انفارمیشن ایج میں‌اپنی کوئی حیثیت بنانی ہے تو فی الفور تو مندرجہ ذیل کام کرنے ہونگے
- فوری طور پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے نئے الفاظ کے ذخیرے کے ساتھ ایک لغت کی تالیف جسے انٹر نیٹ پر کسی دوسری اپلیکیشن سے مربوط کیا جاسکے
- اردو گرامر کی ایک واضح شکل جسے سافٹ ویر انجینیرز استعمال کرتے ہوئے مشین لرننگ ، صوتی و بصری ٹیکنالوجی، گرامر اور اسپیل چیکنگ جیسے سافٹ ویر جدید شکل میں بنا سکیں
- اردو کی بطور زبان تعلیم، بجائے اسکے کے فزکس کی طبعیات کے طور پر تعلیم دی جائے کیونکہ اگر آپ درست اردو سے واقف پروفیشنل تیار کرسکیں‌تو شاید وہ جدید دور کے حساب سے موجود علوم کا اردو میں مناسب ترجمہ کرسکیں۔
اسکے علاوہ بھی کئی منصوبوں کی شروعات کرنی ہو‌نگی لیکن مندرجہ بالا نکات پر تو گویا جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا کیونکہ باقی ساری چیزیں خودکار نظام کی طرح ان چیزوں سے ملحقہ ہیں۔

مصنف: rkamran | زمرہ: نقطہ نظر |



5 تبصرے برائے تحرير “کیا اردو اپنا مقام حاصل کر سکے گی؟ آخری جز (از: راشد کامران)”

  1. منظر نامہ نے لکھا:

    راشد، بہت شکریہ۔ آپ کی دونوں تحاریر بہت اچھی ہیں۔ اور آپ نے کافی تحقیق کر کے ساتھ راوبط بھی دئیے۔ جو آپکی تحریر کو بہترین بنا رہے ہیں۔ آپ کا ایک ایک حرف منظر نامہ کے لیے بہت قیمتی ہے۔
    دوسرا یہ موضوع کچھ ایسا ہے، کہ ہر کسی کی شاید اس پر رائے مختلف ہو۔ یہ سلسلہ شروع کرنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ ہم سب کی رائے کو جان سکیں، شاید اسی طرح کوئی حل ممکن ہو۔
    آپ کی تجاویز بہت اہم ہیں۔ فی الحال جیسا ہم دیکھ رہے ہیں کہ مختصر سی اردو کمیونٹی ہے۔ اور کوئی شک نہیں کہ بہت سے لوگ اردو کے لیے بہت دل سے کام کر رہے ہیں۔ اگر ہم سب مل کر قطرہ قطرہ کام بھی کریں تو ایک دن سمندر بن سکتا ہے۔ انشاءاللہ۔

    بہت شکریہ۔
    ماوراء

  2. اجمل نے لکھا:

    میں صرف ایک تاریخی حقیقت لکھنا چاہتا ہوں ۔ ا
    نگریزوں نے اُردو نام 1865ء کے بعد بدلے لیکن اس طرح کہ جو نام پہلے سے موجود تھے اُن کی تحقیر کی ۔ ملاحظہ ہو
    صوبے دار ہندوستان میں موجودہ کور کمانڈر سے بھی کچھ زیادہ بڑا عہدہ تھا ۔ اُس کے اُوپر انگریز لیفٹیننٹ لگا دیا ۔ یہ صوبے دار ۔ حوالدار ۔ نائک وغیرہ عہدے آج بھی موجود ہیں مگر تحقیر کے ساتھ
    انتظامیہ میں ضلع دار ۔ تحصیل دار ۔ ناظر ۔ گرداور ۔ پٹواری ۔ یہ سب اعلٰی عہدیدار تھے ضلع دار کو ختم کر کے باقی لوگوں کو انگریز اسسٹنٹ کمشنر کے ماتحت کر دیا اور ان پر ڈپٹی کمشنر اور کمشنر لگائے جو آج بھی ہیں

  3. ابوشامل نے لکھا:

    بہت خوب راشد صاحب۔ آپ کے مضمون میں نتائج سے بالکل متفق ہوں کہ اب ہم نے اردو کا مقام متعین کرنا ہے۔ منظر نامہ کا بہت شکریہ کہ اتنا خوب سلسلہ شروع کیا اور اس پر اِس ناچیز کو راشد کامران صاحب کے دلکش مقالے پڑھنے کا موقع ملا۔ بہت شکریہ راشد صاحب

  4. jibran نے لکھا:

    راشد آپ نے بہت عمدہ تجزیہ کیا ہے اور یقینا اس پر داد کے مستحق ہیں۔

    آپ کی پہلی فرمائش جس کا تعلق لغت سے ہے تقریبا بننے کے قریب ہے جس کی مدد سے زبان سیکھنے کا عمل قدرے آسان ہو سکے گا۔

  5. rkamran نے لکھا:

    ماوراء‌ آپ کی حوصلہ افزائی کا شکریہ اور یہ پلیٹ فارم فراہم کرنے پر شکریہ بھی اور خراج تحسین بھی۔

    اجمل صاحب بالکل درست ۔۔ یہی نہیں بلکہ مولانا اور مولوی جو بہت عزت دار لوگوں کے لیے استعمال ہوتا تھا اسے کم تر کیا گیا اور مسلمانوں‌کے شرفا کا لباس دربانوں‌اور نچلے درجے کے فوجیوں‌ میں‌رائج کر دیا گیا۔۔ انگریزوں‌ کے حکومت کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کے غلاموں میں اپنی ثقافت سے نفرت پیدا کردو اسطرح انہیں‌ اپنے آلئہ کار مقامی لوگوں میں‌ دستیاب ہوجاتے تھے جیسے پاکستانی اشرافیہ ۔

    ابو شامل صاحب پذیرائی کے لیے شکریہ ۔۔ ورنہ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ ۔۔

    جبران صاحب ۔۔ خوش آمدید اور داد کے لیے شکریہ۔۔ اگر واقعی ایک اچھی اردو لغت آن لائن بن رہی ہے یا بن گئی ہے تو یہ انقلابی قدم ہوگا۔


اپنی رائے کا اظہار کریں۔

اگر آپ کے ویب براؤزر میں جاوا اسکرپٹ فعال ہے تو آپ درج ذیل خانوں میں براہ راست اردو لکھ سکتے ہیں۔ اردو میں شائع ہونے والے تبصرے ترجیحی بنیاد پر شائع کیے جائیں گے۔ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ اس پر فخر کیجئے۔ اردو کی ترویج میں اپنا کردار ادا کیجئے۔






-