ہائے رے بجلی
کہتے ہیں، اگر کسی چیز کو دل سے چاہو تو پوری کائنات اسے تم سے ملانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے۔ ؛۔) ہاں، ایک اور بات بھی کہتے ہیں کہ پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں کی عوام ہر کچھ دیر بعد ایک خوشی حاصل کرتی ہے اور پھر زور سے نعرہ مارتی ہے۔۔۔۔ “لائٹ آگئی۔۔۔۔!!!” شاید ہماری حالت زار پر پہلی کے بجائے صرف دوسری بات ہی صادق آتی ہے۔
“ارے دیکھو تو سہی، ابھی اتنے گھنٹے بعد بجلی آئی تھی اور منحوس مارے پھر لے گئے۔۔۔” “میرا اتنا اچھا ڈرامہ آرہا تھا ٹی۔وی پر۔۔۔” “مااااااں۔۔۔ پھر بجلی چلی گئی۔۔۔ میں نے کام کرنا تھا۔” ایسے مکالمے تو ہمارے گھروں میں سنے جانا معمول بن گیا ہے۔۔۔ اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں یا کبھی رہنے کا اتفاق (حسن اتفاق یا سوئے اتفاق؟) ہوا ہے تو یقینا اس مصیبت کا سامنا ضرور کیا ہوگا۔ تو پھر کیا خیال ہے، ہوجائے اس موضوع پر ایک ہلکی پھلکی تحریر۔۔۔؟
جی ہاں، منظرنامہ کے سلسلہ “نقطہ نظر” کے لیے ہمارا نیا موضوع ہے: “ہائے رے بجلی” اور ہمیں امید ہے کہ اس موضوع پر ہمیں دلچسپ تحاریر پڑھنے کو ملیں گی۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو قارئین منظرنامہ کے لیے لکھنا چاہتے ہیں لیکن انہیں رجسٹر ہونے کا جھنجٹ گوارا نہیں، ان کے لیے سہولت ہے کہ اب وہ ہمیں اپنی تحریر ای۔میل کرسکتے ہیں۔ ہم خود ان کے نام سے تحریر شائع کردیں گے۔ ہمارے ای۔میل ایڈریس کی تو خبر ہے نا؟

July 19, 2008 بوقت 6:26 pm
عمار یا ماوراء،
جس نے بھی یہ تحریر لکھی ہے۔ آپ لوگ ایک بنیادی چیز جو تھیم میں نہیں ڈال رہے وہ ہے مصنف کا نام۔ میٹھا ڈیٹا(metadata) والی لائن میں مصنف کا ٹیگ ڈال دیں۔ تحریر کے شروع یا آخر میں کبھی نام ہوتا ہے اور کبھی نہیں۔
July 20, 2008 بوقت 3:11 pm
موضوع تو اچھا شروع کیا جا رہا ہے۔۔۔ لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ تحریر مزاح پر مبنی ہو یا سنجیدہ تحریر ہو۔۔۔ ویسے آپ کی تحریر سے تو لگتا ہے کہ مزاحیہ ہونی چاہئے۔۔۔
July 20, 2008 بوقت 9:05 pm
ساجد، تحریر عمار کی ہے۔
اصل میں صرف ان تحاریر میں نام ہوتا ہے جو منظر نامہ کے لکھاری لکھتے ہیں، ہم دونوں جو پوسٹ لکھتے ہیں وہ نام کے بغیر ہوتی ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں کیا کر سکتے ہیں۔
-
بلال، کچھ لوگوں کو خیال تھا کہ ہم سنجیدہ موضوعات کا انتخاب کر رہے ہیں۔اس لیے اس بار ہمیں مزاحیہ انداز میں تحاریر کا انتظار ہے۔
بجلی کے بارے میں محب علوی نے یہاں رائے دی تھی، اسی کو سامنے رکھ کر یہ پوسٹ کی ہے۔
–
ماوراء
July 21, 2008 بوقت 2:47 am
چلیں میں کوشش کرتا ہوں ہو سکتا ہے کہ کوئی مزاحیہ خاکہ بن جائے تو پیش کر دوں گا۔۔۔ ویسے لگتا ہے ضرور بن جائے گا کیونکہ آج کل تھوڑی تھوڑی دیر بعد بجلی جاتی ہے تو نئے نئے الفاظ جنم لیتے ہیں۔۔۔
July 21, 2008 بوقت 10:30 am
موضوع تو اچھا پر واقعی ہمیں آپ کے ای میل ایڈریس کی خبر نہیں۔۔۔۔
July 21, 2008 بوقت 2:03 pm
ساجد بھائی! اگر مصنف خود رجسٹر ہوکر پوسٹ کرے گا، تبھی تو اس کا نام آئے گا نا؟ جو تحاریر دیگر مصنفین کی پوسٹ کی ہوئی ہیں، ان میں ان ہی کے مصنفین کے نام ہے۔ تاہم منظرنامہ کی جانب سے جو تحریر شائع ہوتی ہے، وہ عموما میری اور ماوراء، دونوں کی لکھی ہوئی یا ایڈٹ کی ہوئی ہوتی ہے، اس لیے اسے کسی ایک کے بجائے منظرنامہ کی جانب سے سمجھنا چاہئے۔

بلال بھائی! اگر طنزیہ اور مزاحیہ تحریر ہو تو کیا ہی بات ہے، سنجیدہ بھی چل سکتی ہے۔
عاقب! میں نے اب تحریر ہی میں شامل کردیا ہے ای۔میل ایڈریس۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔
July 21, 2008 بوقت 6:39 pm
اچھی بات ہے۔۔۔خبر کیسے نہیں ہوگی یار۔ میں بلکل نیا ہوں نا بلاگز میں ابھی کسے کا ٹھیک طرح پتہ نہیں۔