اگست 2008ء کے بلاگ۔ حصہ اول

“اس ہفتہ کے بلاگ” کے سلسلہ کی پہلی قسط کے ساتھ حاضر ہے عمار اور میرے ساتھ ہیں ماوراء۔

کیا حال ہیں ماوراء؟

میں ٹھیک ہوں عمار۔۔۔ تم سناؤ!

میں بھی ٹھیک، الحمد للہ۔ تمہارے پاس کون سی تحریر ہے پہلے؟

میں نے جو پہلی تحریر منتخب کی ہے، وہ ابوشامل کی تحقیق ہے جو انہوں نے کولا وار کے خاتمے کے موضوع پر کی ہے اور اس کا عنوان ہے “کولا وار خاتمے کی جانب گامزن“۔ ابوشامل نسبتا نئے بلاگر ہیں لیکن بہت ہی پختہ لکھاری ہیں۔ صحافت کے شعبہ سے ان کے تعلق اور تجربے کا اندازہ ان کی کئی تحاریر سے ہوتا ہے اور یہ تحریر بھی اس کا ایک ثبوت ہے۔ اس میں ابوشامل نے اعداد و شمار اور رپورٹس کی مدد سے بتایا ہے کہ سوفٹ ڈرنکس کے مضر اثرات کے باعث اب یہ صنعت کافی متاثر ہوئی ہے اور کمپنیز اب متبادل کی طرف راغب ہورہی ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

“سافٹ ڈرنکس کے صحت پر اثرات کے حوالے سے رپورٹس سامنے آتے ہی 90ء کی دہائی کے اوائل سے ہی “جنم بھومی” امریکہ میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال کم ہونا شروع ہو گیا اور اب یہ صنعت مسلسل روبہ زوال ہے بلکہ گزشتہ دو سالوں سے تو اس زوال میں مزید تیزی آ رہی ہے۔ Beverage Digest کے مطابق امریکہ میں کاربورنیٹڈ سافٹ ڈرنکس کی مارکیٹ میں حجم کے اعتبار سے 2007ء میں 2.3 فیصد کمی آئی جبکہ 2006ء میں یہ کمی 0.6 اور 2005ء میں 0.2 فیصد تھی۔ ان اعداد و شمار میں انرجی ڈرنکس بھی شامل ہیں البتہ معدنی پانی، اسپورٹس ڈرنکس، تیار شدہ چائے وغیرہ شامل نہیں۔”

آگے چل کر سافٹ ڈرنکس بنانے والے اداروں کے حوالہ سے لکھا ہے:

“انہوں نے مغربی دنیا میں معدنی پانی اور پھلوں کے جوسز کے کاروبار پر توجہ مرکوز کر لی۔ پیپسی نے “Aquafina” نامی معدنی پانی مارکیٹ میں متعارف کروایا تو کوکا کولا “Kinley” لے آیا۔ آخر الذکر Minute maid کے ساتھ جوس مارکیٹ میں لایا تو اول الذکر نے Tropicana Twister متعارف کرادیا۔ حتٰی کہ اب Kurkure جیسے برانڈز تک متعارف کرانا پڑ رہے ہیں تاکہ متبادل ذرائع سے آمدنی کو سہارا دیا جاسکے یا بڑھایا جا سکے۔”

تمہارے پاس کون سی تحریر ہے عمار؟

میرے پاس تحریر ہے نعمان کی: “کراچی کی طالبانائزیشن“۔ یہ پاکستان اور خاص کر کراچی کی سیاسی اور علاقائی صورتحال کے حوالہ سے ایک اہم تحریر ہے۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے ایم۔کیو۔ایم کی جانب سے کراچی میں طالبان کی بڑھتی ہوئی تعداد پر مسلسل آواز اٹھائی جارہی ہے۔ نعمان نے اس پر کافی طویل اور سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ نعمان لکھتے ہیں:

” ایم کیو ایم کو پختونوں کی اتنی بڑی تعداد میں آمد پر سخت تشویش ہے۔ کیونکہ ایک تو یہ سراسر ان کے ووٹ بینک کے لئے نقصان دہ ہوگا۔ دوسرا انہیں ایک اور عفریت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کا نام ہے لینڈ مافیا۔ اس لینڈ مافیا کو بڑی سیاسی جماعتوں، مولویوں اور ہر کرپٹ فرد کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ غریب پختونوں کی کچی آبادیوں کے نام پر زمینوں پر قبضے کرے جارہیں جب کہ ان زمینوں کو اگر واگزار کرانے کی کوشش کی جائے تو اسے لسانی رنگ دے دیا جاتا ہے۔

دوسرا ایشو یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کٹر مذہبی رویہ رکھنے والے لوگوں کی شہر میں آمد سے سنگین امن و امان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایک تو ان آنے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ اوپر سے یہ تمام نوجوان غیر تعلیم یافتہ، بے ہنر، اور بے حد غربت کا شکار ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہیں کسی بھی لسانی، سیاسی، یا نام نہاد مذہبی فساد میں استعمال کرنا کتنا آسان ہوجاتا ہے جب وہ پہلے ہی غربت، احساس محرومی اور ناانصافی کا شکار ہوں۔ اس وقت کراچی میں یہی ہورہا ہے۔”

مسئلہ اور اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد نعمان اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

“میرا خیال ہے کہ آنے والے قبائلی و دیگر پختونوں کو اپنے بچوں کو اسکولوں میں بھیجنا چاہئے۔ اور حکومت کو ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ کوئی ان کی معاشی مجبوریوں کا استحصال نہ کرے۔ پختونوں کی مرضی سے کراچی کے پہلے سے قائم معیاری مدارس کی زیر نگرانی چلنے والے مدرسوں کو ہی ان کے محلوں میں تعلیم دینے کی اجازت دی جانی چاہے۔ حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر مبنی نظریات کا پرچار کرنے کراچی آتے ہیں۔ شہری حکومت کو لینڈ مافیا سے لڑنے کا مکمل اختیار ہونا چاہئے۔جرگوں پر مکمل پابندی ہونی چاہئے۔ اور پختون ایکشن کمیٹی کی بلیک میلنگ کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لینا چاہیے۔ جو بھی شہر کو قبائلی علاقہ سمجھنے کی حماقت کرے اور اسے صوبے سے باہر نکال دیا جائے۔”

یہ تحریر جس قدر اہم ہے، اسی قدر متنازعہ بھی۔ اس پر افتخار اجمل، میرا پاکستان اور فیصل کے طویل تبصرے پڑھنا بھی معلومات میں اضافہ کا سبب بنیں گے۔

جی ماوراء!

میرے پاس اگلی تحریر اردو بلاگنگ میں نووارد بلاگر عارم پاکستانی کی ہے۔ انہوں نے پچھلے دنوں ہی بلاگ لکھنا شروع کیا ہے اور اس وقت میرے پیش نظر ان کی تحریر “بھیک” ہے۔ اس سے پہلے عارم نے ایک تحریر “افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر” بھی بہت خوبصورت لکھی تھی۔ حالیہ تحریر میں انہوں نے اپنے اردگرد کی صورتحال بیان کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ اوپر سے لے کر نیچے تک، بھکاریوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔

تحریر کے شروع میں عارم لکھتے ہیں کہ پہلے انہیں محلے کی ایک بچی نے تنگ کیا جو ٹماٹر مانگنے آئی تھی۔ اس کے بعد انہیں ایک ٹیکسٹ موصول ہوا جس میں کسی نے اپنی مجبوری بتاکر کچھ رقم موبائل میں منتقل کرنے کا کہا تھا۔ پھر عارم نے سفر کے دوران نظر آنے والے بھکاریوں کا تذکرہ کیا ہے۔ آخر میں اپنی آپ بیتی یوں بیان کرتے ہیں:

“میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک معاشرہ میں کس قدر مختلف مزاج کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ تربیت، ماحول اور صحبت کا کتنا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میرے لیے کسی سے کچھ مانگنا ہمیشہ سے انتہائی مشکل کام رہا ہے، چاہے اپنی ہی چیز کیوں نہ ہو۔ دوستوں کے مانگنے پر انہیں اپنی چیزیں دے تو دیتا تھا لیکن ان چیزوں کی واپسی کا سوال مجھے شرمندگی کا احساس دلاتا اور نتیجہ یہ نکلتا کہ اگر دوست واپس نہ کرتے تو میں بھی مانگ نہ پاتا اور وہ چیزیں انہی کے پاس رہ جاتیں۔ اور ہاں۔۔۔ لفٹ مانگنا۔۔۔ اکثر لوگ راہ چلتے کسی گاڑی والے سے کچھ راستہ کے لیے لفٹ لے لیتے ہیں لیکن مجھ سے یہ کام کبھی نہیں ہوسکا۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔ کبھی ضرورت پڑتی بھی تو میں بس سوچتا ہی رہتا کہ ہاں، اب جو گاڑی آئے گی، اس کو اشارہ کروں گا لفٹ کے لیے لیکن نہ کرپاتا۔۔۔ ایک، دو بار نہیں، بیسیوں بار یہ تجربہ کرکے دیکھا۔ کسی سے کچھ مانگنا۔۔۔ کسی اپنے جیسے سے کچھ مانگنا بہت برا لگتا ہے نا! اور ہے بھی غلط۔۔۔ شاید لفٹ لینے کی حد تک تو چل ہی جاتا ہو لیکن چھوٹی چھوٹی چیزیں دوسروں سے مانگنا، دوسروں کی چیزوں پر انحصار کرنا، یہ بالکل بھی اچھی عادت نہیں۔”

ہممم۔۔۔۔ میرے پاس آخری تحریر فیصل کی ہے، موضوع ہے: “ہمارا نیا نوکیا“۔ یہ ایک بے حد معلوماتی تحریر ہے جس میں فیصل نے اپنے لیے ایک فون خریدنے کے تجربے کو بیان کیا ہے۔ یہ اس سلسلہ کی پہلی تحریر ہے جس میں فیصل بتاتے ہیں کہ فون لینے سے پہلے ان کے پیش نظر کیا کیا چیزیں تھے اور کن کن فیچرز کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنے فون کا انتخاب کیا۔ لکھتے ہیں:

“میرے زیر نظر کچھ یہ عوامل تھے:

بطور فون عمومی خصوصیات مثلا آواز کی کوالٹی وغیرہ

ای میل خصوصاً پُش ای میل

انٹرنیٹ بذریعہ وائرلیس لین یا وائی فائی

پرسنل انفارمیشن مینیجمنٹ کی اعلی خصوصیات یعنی کیلنڈر، نوٹس، فون ڈائری، وغیرہ

ذاتی کمپییوٹر/ پی سی میں موجود پم مثلاً مائکروسوفٹ آوٹ لک کے ساتھ معلومات یا ڈیٹا کی ترسیل یعنی سنکرونائزیشن

دفتری فائلوں مثلا ایم ایس ورڈ، ایکسل، ایڈوبی پی ڈی ایف، وغیرہ کو پڑھنے، لکھنے اور ترمیم کرنے کی صلاحیت

مکمل کی بورڈ یعنی ایسا کی بورڈ جیسا آپکے کمپیوٹر میں ہے، کچھ مثالیں یہاں دیکھ لیں

سکرین کا سائز اور کوالٹی، دھوپ میں نظر آنے کی صلاحیت

فون کا حجم ، وزن، ظاہری شکل، ٹھوس پن وغیرہ

بعد از فروخت سروس اور برانڈ کا عمومی تاثر، استعمال شدہ فون کی مارکیٹ میں قدر وغیرہ

ڈیٹا ٹرانسفر کے متفرق طریقے مثلاً تار یا بلیو ٹوتھ

قیمت (یقینا یہ ایک اہم نکتہ ہے)

یاداشت/ میموری میں اضافے کی صلاحیت

فون کے استعمال کی آسانی (آئی فون غالبًا سب سے نمبر لے گیا ہے لیکن سمبیان پر چلنے والے فون عموما ونڈوز والوں سے آسان اور سہل خیال کیے جاتے ہیں)

متفرق خصوصیات مثلا کیمرہ، موسیقی، جی پی ایس کی موجودگی

مارکیٹ میں دستیاب سوفٹویر اپلیکیشنز/ اطلاقیوں کی تعداد اور انکی قیمت۔ یہ آپکے فون میں اضافی خصوصیات پیدا کرتے ہیں۔”

ان سب عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصل نے کون سا موبائل فون لیا، اس کے لیے ان کی اگلی تحریر کا انتظار کیجئے۔

جی قارئین! یہ تھی اس سلسلہ کی پہلی قسط۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گی۔ اس میں بہتری کے لیے آپ کی تجاویز اور مشوروں کا ہم کھلے دل سے خیر مقدم کریں گے۔

والسلام۔

مصنف: منظر نامہ | زمرہ: اس ہفتے کے بلاگ |



16 تبصرے برائے تحرير “اگست 2008ء کے بلاگ۔ حصہ اول”

  1. میرا پاکستان نے لکھا:

    یہ سلسلہ اور خیال ہمیں پسند آیا امید ہے کافی مقبول ہو گا۔

  2. خاور نے لکھا:

    آپ کا یه خیال بہت هی اچھا ہے
    اردو کے بلاگروں میں ایک صحت مند مقابله کرنے کی فضا پیدا هو گی ـ
    اس کے بڑے هی دور رس نتائیج هوں گے
    اس کو جاری رهنا چاهیے
    اور صرف تعریفیں هی نہیں کچھ تنقید بھی هونی چاهیے کبھی کبھی ـ

  3. راشد کامران نے لکھا:

    میرا خیال ہے اردو بلاگنگ بالآخر پاؤں پاؤں چلنا شروع ہوگئی ہے۔ آپ لوگوں‌کی کاوش قابل تحسین ہے۔ یہ سلسہ اگر ایسے ہی ہفتہ وار اور باقاعدہ چلتا رہے تو کیا بات ہے۔ ویل ڈن۔

  4. فیصل نے لکھا:

    سب سے پہلے تو اس عزت افزائی کا شکریہ،
    ایک بات جو کہنا چاہونگا وہ یہ ہے کہ آپ لوگ زیرِ‌تبصرہ بلاگ کے کچھ حصے جوں‌ کے توں‌ لکھ رہے ہیں، شائد کچھ عرصہ بعد لوگ اس سے بور ہو جائیں‌کہ ایک ہی تحریر وہ دو مرتبہ پڑھ ‌رہے ہونگے۔ اس طرح تبصرہ بھی طوالت اختیار کر لیتا ہے۔ کیا صرف مندرجات کا ذکر کر دینا اور تحریر کا نچوڑ‌پیش کر دینا کافی نہ ہو گا، بشمول اپنے تجزیے کے؟
    یہ صرف میرا خیال ہی ہے اور ضروری نہیں‌کہ آپ متفق ہوں
    والسلام،
    فیصل

  5. ساجداقبال نے لکھا:

    فیصل کی بات ٹھیک ہے، آپ کا لکھا گیا تبصرہ بذات خود ایک انفرادی تحریر ہونی چاہیے، میں نے صرف آپ لوگوں کے لکھے گئے پیرائے پڑھے باقی تو میں پہلے ہی پڑھ چکا تھا سو میرے لئے مجموعی طور پر کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اچھی کاوش ہے پر فارمیٹ میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ :ainko

  6. شعیب صفدر نے لکھا:

    نہایت اعلی و اچھی کاوش ہے!!
    باقی میں نے تحریر کے کاپی پیسٹ والے حصے نہیں پڑھے آپ کو معلوم ہو چکا ہو گا کیوں؟

  7. دوست نے لکھا:

    شعیب کی بات سے اتفاق کروں گا صرف آپ کی تحریر پڑھی ہے بلکہ تبصرے کا منتظر تھا لاشعوری طور پر۔ باقی تو تمام تحاریر پڑھی ہوئی تھیں۔

  8. منظر نامہ نے لکھا:

    آپ حضرات کا بہت شکریہ ۔ اس تحریر کا کریڈٹ مکمل طور پر عمار کو جاتا ہے۔ :smile

    فیصل، ساجد، شعیب اور دوست، ہمارا مقصد تو یہی تھا کہ ہفتے کے بلاگز پرایک نظر یا ایک جائزہ لیا جائے اور اچھی تحاریر کے معلوماتی یا بہترین حصے کے اقتباسات منظر نامہ پر پوسٹ کیے جائیں۔ جس سے صرف اتنا ہی اندازہ ہو کہ پچھلے ہفتے اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا۔ جبکہ ان اقتباسات پر ہم اپنے تبصرے چند الفاظ سے زیادہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
    بہترین اقتباسات پوسٹ کرنے سے یہ بھی ہو گا کہ بلاگرز میں اچھا اور مستقل لکھنے کا ایک ماحول بن سکے گی، اور لکھاری کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی۔

    بہرحال، ہم اس خیال پر ایک بار پھر سوچتے ہیں کہ مزید ہم کیا کر سکتے ہیں۔
    ———-
    ماوراء

  9. ابوشامل نے لکھا:

    بالآخر اس سلسلے کا آغاز ہو ہی گیا جس کا انتظار تھا اور حیرتناک بات یہ کہ سب سے پہلے میری تحریر پر تبصرہ کیا گیا :noway جو میرے لیے باعث فخر ہے۔
    چند بلاگر ساتھیوں نے اعتراض کیا ہے کہ اقتباسات دینے کے بجائے صرف تبصرہ دیا جائے لیکن میرے خیال میں اگر اقتباس دینے سے بات زیادہ بہتر سمجھ میں آتی ہے تو اسے دینے میں کوئی قباحت نہيں۔ ضروری نہیں کہ ہر تبصرہ نگار تمام بلاگرز کو پڑھتا ہو، چند ایسے منتخب بلاگز بھی ہو سکتے ہیں جو ہماری نظروں سے نہ گزرتے ہوں۔ بہرحال اب یہ منظرنامہ کی انتظامیہ پر ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا قدم اٹھاتی ہے۔ فی الوقت تو ایک اچھے سلسلے کے آغاز پر مبارکباد قبول فرمائیے۔

  10. بدتمیز نے لکھا:

    اس کانسیپٹ میں اقتباس ضروری ہے۔ زکریا نے اس کا بہت پہلے ذکر کیا تھا اور اردو کے لئے کسی بندے کا کہا تھا۔ لیکن اردو بلاگرز میں کوئی بندہ ہے ہی نہیں۔ :d
    خیر اقتباس لازمی ہوتا ہے اور براہ کرم اقتباس کو کوٹس میں لکھیں۔

  11. رضوان نے لکھا:

    بہت عمدہ عمار اور ماوراء
    شروع کیا ہے تو راہیں بھی کھُلتی چلی جائیں گی اور آپ لوگ خود ہی بہتر سے بہترین کی طرف چلے جائیں گے۔
    مجھے تو شروعات پسند آئیں ہیں رہی تنقید کی باتیں تو بھئی بلاگرز میں بھی حوصلہ ہونا چاہیے عمار اور ماوراء کی ” سُناری چوٹیں ” برداشت کرنے کا۔
    اس سلسلے کو قائم رہنا چاہیے۔
    بہت عمدہ

  12. منظر نامہ نے لکھا:

    آپ سب دوستوں کا بے حد شکریہ۔ دراصل منظرنامہ پر کام کرنے والے ہم صرف دو ہی ہیں۔ ہمیں جو بہتر سمجھ آتا ہے، وہ اپنا لیتے ہیں۔ اس سلسلہ کا خیال کچھ عرصہ پہلے مجھے اچانک ہی سوجھا۔ اس کی بہتری کے لیے آپ لوگوں کے مشورے اور تجاویز کو سامنے رکھیں گے لیکن میرے نزدیک تحریر کا کچھ حصہ بطور اقتباس پیش کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
    دراصل ہوا یوں ہے کہ اکثر لوگوں کو توقع تھی کہ بلاگز پر گرماگرم تبصرہ کیا جائے گا ہماری طرف سے جبکہ ہماری نظر میں اس سلسلہ کا مقصد صرف اتنا تھا کہ ہر ہفتہ کی خاص تحاریر کو یکجا کیا جائے اور ایسے بلاگرز کو بھی جگہ دی جائے جس کے قارئین زیادہ نہیں۔
    بہرحال! اب چونکہ اکثریت تعریف و تنقید، دونوں کی منتظر ہے اس لیے آنے والی آئندہ قسطوں میں اس حوالہ سے خیال رکھیں گے اور ان شاء اللہ بہتری کی طرف بڑھیں گے۔ لیکن آپ تو جانتے ہیں، تنقید کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ناقد کی اپنی معلومات کہیں زیادہ ہو اور ادھر ہم دونوں تو بچے ہیں۔۔۔۔ :p کیوں ماورا؟ ایسا ہی ہے نا؟
    اس سلسلے میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ دو تین اچھے بلاگرز کا بورڈ بنادیا جائے جو ہر ہفتے کی اہم تحاریر پر تنقید کا فریضہ انجام دیں۔ کیا فرماتے ہیں احباب ہمارے بیچ اس تجویز کے؟ :smile
    ۔۔۔۔۔
    عمار

  13. میرا پاکستان نے لکھا:

    بورڈ بنانے کی تجویز بھی اچھی ہے مگر یاد رکھیے گا جیسا کہ بدتمیز نے کہا اردو بلاگرز میں‌بندے بہت کم ہیں‌شاید آپ کی حوصلہ شکنی ہو جائے۔ کیونکہ اتنے ساری تحاریر پڑھ کر پھر ان کی چھانٹی کرنا کوئی آسان کام نہیں‌ہے اور اسی وجہ سے ہمیں‌خدشہ ہے کہیں‌یہ کام وقت کی کمی کی وجہ سے ادھورا نہ رہ جائے۔
    اس کام کو آسان بنانے کیلیے آپ دو چار رہنما اصول بنا کر رکھ لیں اور ان اصولوں کی بنیاد پر تحریر کو پرکھ لیا کریں تاکہ آپ کا قیمتی وقت بچ سکے۔ ہم پھر کہیں‌گے یہ کام اتنا آسان نہیں‌ہے جتنا نظر آرہا ہے اسکیلیے ہم تمام بلاگرز کو منظرنامہ کی کسی نہ کسی طرح‌مدد کرنا ہو گی۔

  14. ڈفر نے لکھا:

    واہ جی واہ
    بڑے کام کی چیز شروع کی ہے

  15. حجاب نے لکھا:

    ماوراء اور عمار بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ہے تم دونوں نے :smile

  16. منظر نامہ » Blog Archive » اگست 2008 کے بلاگ۔ حصہ دوئم نے لکھا:

    [...] اگست 2008ء کے بلاگ۔ حصہ اول [...]


اپنی رائے کا اظہار کریں۔

اگر آپ کے ویب براؤزر میں جاوا اسکرپٹ فعال ہے تو آپ درج ذیل خانوں میں براہ راست اردو لکھ سکتے ہیں۔ اردو میں شائع ہونے والے تبصرے ترجیحی بنیاد پر شائع کیے جائیں گے۔ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ اس پر فخر کیجئے۔ اردو کی ترویج میں اپنا کردار ادا کیجئے۔






-