14 اگست کوئز: نتائج کا اعلان

منظر نامہ پر کچھ دن پہلے چودہ اگست کے موقع پر ایک کوئز پوسٹ کیا گیا تھا اور تمام اردو بلاگرز کو ٹیگ کیا تھا۔ جن میں سے چند بلاگرز نے جوابات دئیے ہیں۔ جو کہ شگفتہ، شعیب صفدر، میرا پاکستان اور شاہدہ اکرم ہیں۔

میرا پاکستان نے 13 سوالات کے درست جوابات دئیے جبکہ شعیب، شگفتہ اور شاہدہ اکرم نے 12, 12 سوالوں کے درست جواب دئیے ہیں۔

میرا پاکستان:1st

شعیب صفدر :2nd

شگفتہ : 2nd

شاہدہ اکرم : 2nd

درست جوابات درج ذیل ہیں۔ اگر نتائج میں آپ کو کسی قسم کی غلطی محسوس ہو تو آگاہ کریں۔

1- پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کب مرتب کی گئی تھی؟

1949 میں

2 -  قیامِ پاکستان کی تجویز سب سے پہلے کس نے پیش کی؟

علامہ اقبال

3 - برطانوی حکومت نے تقسیمِ ہند یعنی قیامِ پاکستان کا اعلان کب کیا؟

3 جون 1947

4 - برصغیر میں مسلمانوں کے لیے کس مدبر شخص نے سب سے پہلے “قوم” کا لفظ استعمال کیا تھا؟

سر سید احمد خان

5 -  سب سے پہلا پاکستانی پرچم کس نے تیار کیا تھا؟

اقبال احمد خان(جبکہ پرچم کا ڈیزائن امیرالدین قدوائی نے تیار کیا تھا)

6 - پاکستان کو سب سے پہلے کس اسلامی ملک نے تسلیم کیا؟

ایران

7 - پاکستان کا سب سے پہلے جاری ہونے والا اخبار کون سا تھا؟

روزنامہ امروز لاہور

8 -  پاکستان کا قومی پرچم سب سے پہلے کہاں لہرایا گیا تھا؟

کراچی

9 - پاکستان کا پہلا ڈاک ٹکٹ کب جاری ہوا؟

9 جولائی  1948

10 - پاکستان کی سرکاری زبان کون سی ہے؟

دونوں

11 - قائداعظم قیام پاکستان کے بعد کتنا عرصہ حیات رہے؟

تیرہ ماہ

12- پاکستان کا تیسرا بڑا پہاڑ کون سا ہے؟

Gasherbrum-I

13- شلوار قمیض کو پاکستان میں قومی لباس کی حیثیت کب دی گئی؟

یکم دسمبر 1981

14- “پاکستان  اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کے لیے حاصل کیا گیا ہے” یہ فرمان کس کا ہے؟

قائداعظم

15- پاکستان کا قومی جانور کون سا ہے؟
مارخور

مصنف: منظر نامہ | زمرہ: اعلانات/ متفرقات |



10 تبصرے برائے تحرير “14 اگست کوئز: نتائج کا اعلان”

  1. میرا پاکستان نے لکھا:

    کہیں‌کچھ گڑبڑ ہو گئ ہے اور یہ ہم اس وجہ سے نہیں‌کہ رہے کہ ہم مقابلہ جیتنا چاہتے ہیں بلکہ ریکارڈ کی درستگی کیلے عرض ہے کہ شگفتہ صاحبہ نے ایک سوال کا جواب ہی نہیں‌دیا یعنی شلوار قمیض کب قومی لباس قرار پائی۔
    دوسرے پرچم کی سلائی کا ہم نےانہی دنوں‌ ایکپریس اخبار میں‌پڑھا تھا کہ قومی پرچم تیار کرنے والے اقبال احمد کے خاندان سے وزیراعظم نے ملاقات کی ہے۔ سوال میں‌یہ بھی کنفیوژن تھی کہ قومی پرچم تیار کرنے کا مطلب اس کو سی کر تیار کرنا یا ڈیزائن بنا کر تیار کرنا تھا۔ اس کنفیوژن سے بالاتر پلیز یہ ضرور کنفرم کیجئے کہ کیا پرچم واقعی قدوائی صاحب ہی نے سیا تھا۔

  2. میرا پاکستان نے لکھا:

    پہلا جھنڈا سینے والے ماسٹر اقبال کے بارے میں‌جنگ کی خبر کا ربط
    http://www.jang.com.pk/jang/aug2008-daily/14-08-2008/update.htm#30

  3. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین نے لکھا:

    محترم!
    آپکایہ سوال نمبر 10اور اسکا جواب ُ ُ- پاکستان کی سرکاری زبان کون سی ہے؟ جواب دونوں ( اردو انگلش)۔ میری رائے میں الجھاؤ پیدا کرتا ہے ۔ پاکستان کی سرکاری زبان صرف ایک ہے اور وہ ہے انگلش ۔ رہ گئی اردو بے چاری تو یسے قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے جو واقعتہَ ثانوی حثیت رکھتی ہے ۔ سرکاری کا عام مطلب وہ ہی بنتا ہے کہ کارِ سرکار دربار کے لئیے جو زبان استعمال کی جائے ۔ جسطرع ھندؤستان کچھ مسلمان بادشاہوں کے دور میں کار ِسرکار کے لئیے فارسی زبان تھی جس میں بادشاہت کے دفتر کا حساب رکھا جاتا تھا اور جسے دربار میں افضل زبان سنجھا جاتا تھا ۔ اسطرع پاکستان میں سرکار کے عام فارموں سے لیکر آپکو بنک میں اپنا کھاتہ کھلوانے کے لئیے ۔ پاسپورٹ بنوانے ، تجدید کروانے ۔ سرکار کو ٹیکسیز ادا کرنے لے لئیے ۔ ہر طرع کے فارم آپکو انگریزی میں ملیں گے ۔ اپ تمام کی تمام وزارتیں اپنا سارا حساب کتاب ۔ اصول و ضوابط ۔ اور پاکستان کی انگریزی سے 90 فیصد نابلد آبادی کو اپنی وزارت کے قیام کا مقصد اور خدمات تک انگریزی میں بیان کرتی ہیں ۔ سرکار اور کارِ سرکار کا تمام کاروبار انگریزی میں ہے ۔ صرف یہ ہی نہیں منفافقت کا یہ عالم ہے کہ وہ ادارے جو اردو کی ترویج کے لئیے کام کرتے ہیں اور حکومت سے گراں قدر گرانٹس ( امداد) حاصل کرتے ہیں اور جن کے عہدیدار قومی زبان اردو کا درد سینے میں لئیے نہیں تھکتے ۔وہ بھی عام بول چال میں انگریزی میں بات چیت کرتے ہیں اور ان اداروں کی انٹر نیٹ پہ ویب ساءٹس تک انگریزی میں ہیں ۔ صرف کچھ عرصے قبل ُ ُمقتدرہ قومی زباں،، جسکا انگریزی نام ُ ُ نیشنل لینگوئج اتھارٹی،، اور یہ کیبنٹ ڈویژن ادارہ ہے نے کچھ عرصہ قبل اپنی اردو سائٹ بنائی ہے ۔ میں لیک لکھ بیجھتا ہوں ۔

    http://www.nla.gov.pk/beta/index.html

    آپ دیکھ لیں کہ انہوں نے اردو کے لئیے کونسا تیر مارا ہے ۔ انکی سائٹ پہ بھی صرف اپنی مدح سرائی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ۔ جبکہ آپ کا اس بلاگ کی دیدہ زیبی مقتدرہ قومی زبان کی سائٹ سے کئی گنا بہتر ہے۔ اس ادرے کی سائٹ سے آپ کو اردو سافٹ وئیر یا اسطرع کی کوئی مدد تو درکنار کوئی ایک آدھ دیدہ زیب اردو فونٹ تک میسر نہیں ۔ یہ کرڑوں بلکہ اربوں روپے ڈکار چکے ہیں اور جب ان کے کسی ذمہ دار عہدیدار سے اردو کی ترقی و ترویج کی مد میں وصول کیئے گئے اربوں روپے کی بابت پوچھا جائے تو یہ حضرات ماسوائے انگریزی کی اردو میں ڈھالی گئی اصطلاحات کے سوا اردو کے لئیےکوئی قابلِ ذکر خدمت نہیں گنوا سکتے ۔اور ےقین مانیئے ان کی اردو اصطلاحات اسقدر ثقیل ۔ مہمل اور بے تکی اور بعض اوقات بے معنی ہوتی ہے کہ سر پیٹ لینے کو جی چاھتا ہے۔ اور یار لوگ انگریزی اصطلاحات کو ہی استعمال کرنے میں امان پاتے ہیں ۔ ایسی اصطلاحات یوپی کی کسی اعلیٰ سے اعلٰی اردو ادارے کی کسی بھی اردو عالم فاضل کو بتائیں جائیں تو وہ اپنا سر پیٹ لے یا اردو کے ساتھ تعلق ہونے کے ناطے شرم سے منہ چھپا لے ۔ اردو کو اتنا نقصان کسی اور نہیں نہیں دیا ھوگا جتنا اِن اہلِ زبان ۔ اہلِ اردو نے دیا ہے ۔ انکی ہر اصطلاح قوم کو ھزاروں روپے میں پڑی ہے ۔اور مقبولیت کی سند تو در کنار عام آدمی کو ان اصطلاحات کی بھنک تک نہیں پڑی۔

    جس ملک کی دکانوں کے بورڈ ۔ حجام کی دکانوں تک کے نام جلے حروف میں انگریزی میں لنڈن پیرس وغیرہ لکھے ہوں ۔ ٹریفک کی لال بتی کے آگے رکنے کی بجائے سٹاپ لکھا ہو ۔ اور انگریزی بول چال کو عالم فاضل ہونے کی نشانی تسلیم کیا جاچکا ہو ۔ تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پچھلے ساٹھ سالوں سے ہم پہ قابض ُ ُانگلش کلب،، غریب رعایا جو اردو کو سمجھ لیتی ہے اور بول سکتی ہے کو اپنی جگہ دینے کو تیار نہیں اور جب تک یہ منافقت جاری و ساری ہے ہم تعلیم میں کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے ۔ اور تعلیم مین ترقی کیے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکی۔

    اس لئیے پاکستان کی سرکاری زبان صرف ایک ہے اور وہ ھے انگریزی ۔ اور اردو قومی زبان ہے جو رفتہ رفتہ پاکستان کی روز مرہ دلچسپی کی وجہ سے ترقی کر رہی ہے اور صرف قومی زبان ہے سرکاری نہیں

    ذیل میں شاہدہ اکرم بہن کے بلاگ ُکہنی سننی ، پہ لکھا اپنا تبصرہ دوبارہ لکھ رھا ہوں ۔
    بصدِ احترام عرض ہے۔ کہ پاکستان میں انگریزی کو سرکاری زبان اور اردو کو قومی زبان تسلیم کیا جاتا ہے ۔ جبکہ ہم گھروں میں پاکستان کی دیگر معروف زبانوں پنجابی اور سرائیکی (پنجابی سے ملتی جلتی)55٪ سندھی15٪ اردو8٪ پشتو 12٪ بلوچی 4٪ ہندکو، براہوی، برشاشکی، چترالی اور دیگر زبانیں 6٪ میں سوچتے ہیں ۔
    جو بچہ آنکہ کھولتے ہی اپنے مانوس ماحول میں اپنی مخصوص مادری زبان میں سوچتا ہے اور پھر یہی زبان اسکے لاشعور پہ ساری عمر چھائی رہتی ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئیے اسی زبان میں سوچےگا پھر اسے اسکول کالج میں اردو زبان کاتڑکہ دیا جاتا ہے ۔ابھی وہ بچہ سنبھل نہیں پاتا تو اس پہ یہ حقیقت آشکارہ ہوتی کہ سرکار دربار کی زبان تو نا اردو ہے نا اسکی مادری زبان بلکہ انگریزی ہی وہ واحد حقیقت ہی کہ جسے اپنا کر زندگی کی دوڑ میں مقدور بھر حصہ لے سکتا ہے ۔
    یہ فرق پاکستان میں اردو میڈیم اور انگلش میڈیم اسکولوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے بھی ظاہر ہوجاتا ہے کہ انگلش میڈیم اسکولوں سے پڑہے بچوں کے تفاخر اور امتیاز کے مقابلے میں اردو میڈیم اسکول سے فارغ بچہ زبردست احاسِ کمتری کا شکار اگر نا ہو تو دباؤ کا شکار ضرور رہتا ہے ۔ یہ بھی اس صورت میں ہے اگر اردو میڈیم سے فارغ ہونے والے آگے چل کر اپنی ذاتی قابلیت اور محنت سے پاکستان میں سرکاری درباری دوڑ میں شامل ہوجائے تو۔
    کہنے کو تو یہ دو زبانیں ہیں مگر پاکستان کے منافقانہ سرکاری درباری نظام میں یہ دو بڑی بڑی حقیقتوں کو واضح کرتی ہیں ۔ اؤلاَ ۔ اردو زبان غریب رعایاہ کا تعلیمی ذرئعیہ( میڈیم) زبان ہے ۔ جبکہ انگلش زبان سرکار دربار اور خواصوں کے کلب کی زبان ہے ۔ چند ایک اشتناء چھوڑ کر جسمیں اردو میڈیم کو گھسنے نہیں دیا جاتا ۔
    اسکے علاوہ مختلف طریقہ ِ تعلیم جو پاکستان میں رائج ہیں ۔ وہ اپنی جگہ الگ لطیفوں کی حثیت رکھتے ہیں ۔ کہنے کو تو پاکستان پہ قابض مخصوص طبقہ پچھلے ساٹھ سالوں سے پاکستان میں ناخوادنگی دور کرنے کے لئیے مختلف وزارتیں ۔ اور وسائل استعمال میں لانے کا ڈھنڈورا بڑے زور سے پیٹتا آیا ہے مگر یہ کہ انگلش کو سرکاری زبان کا درجہ دے کر انہوں نے اپنے مناففقانہ طرزِ عمل سے اپنی اجارہ داری کو کامیاب تحفظ دے رکھا ہے۔ جبکہ ہم آجتک انگلش زبان میں عالمی معیار کا ایک بھی مصنف پیدا نہیں کر سکے ۔ ان منافقانہ طرزِ عمل وجہ سے پاکستان کی شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافہ نا ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عام آدمی کی ترقی رکی ہوئی ہے ۔ اور عام آدمی پاکستان کی قسمت سے لاتعلق ہوا جارھا ہے ۔ ہم پچھلے ساٹھ سالوں سے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔
    ہم دنیا کی واقف تاریخ میں کسی ایک قوم کی مثال نہیں دے سکتے جس نے تعلیم کے بغیر ترقی کی ھو۔
    خیر اندیش
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ۔ اسپین

  4. منظر نامہ نے لکھا:

    افضل صاحب، میں نے ایک دو جگہ مزید سرچ کیا ہے۔ آپ کی بات درست ہے۔ میں نے اب درست کر دیا ہے۔ بہت شکریہ۔
    —–
    جاوید صاحب ۔ کچھ جگہوں پر صرف انگریزی، اور کچھ جگہوں پر اردو ، انگریزی دونوں سرکاری زبان ملتا ہے۔ انگریزی وکی پیڈیا پر دیکھیں۔ اور اردو میں وکی پیڈیا پر دیکھیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں سرکاری و دفتری زبانیں ہیں۔
    —–
    ماوراء

  5. » بلاگ منظرنامہ کا چودہ اگست کوئز میرا پاکستان: نے لکھا:

    [...] کوئز کے نتائج منظرنامہ کے بلاگ پر دیکھیے۔ ہمارے دو جوابات غلط قرار دیے گئے۔ [...]

  6. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین نے لکھا:

    محترم!
    آپ نے بہت نےیومِ پاکستان پہ پاکستان کے حوالے سے بہت اچھا سلسسلہ شروع کیا تھا ۔جسکی آپ کو داد نا دینی ناانصافی ہوگی ۔ مگر یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں سرکاری ذبان صرف انگریزی ہے ۔ تا کہ آپکے قارئین کو ابہام پیدا نا ہو- مقصد آپ سے مباحثہ کرنا نہیں ۔ نا ہی وکی پیڈیا برائے اردو و انگریزی کے صاحبِ مضامین کی کاوشوں کو کمتر قرار دینا ہے ۔ اور اللہ نا کرے نا ہی کسی بھی صورت میں اپنی علمیت جتلانا ہے ۔ میرا مقصد محض ریکارڈ کی درستگی کے لئیے ٹھوس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ پاکستان سرکاری زبان صرف انگریزی ہے جبکہ اردو قومی زبان کا درجہ رکھتی ہے ۔اس سلسلے میں ۔میں بہت سے سرکاری ربط لکھ سکتا ہوں مگر میرے خیال میں مندرجہ ذیل ربط سے یہ ابہام دور ہوجائے گا یہ ربط یا لنک ُ منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ آف پاکستان، کی سرکاری ویب سائٹ کا ہے ۔ جہاں انکے اپنے الفاظ میں یوں لکھا ہے۔
    Languages Urdu (National) and English (Official)

    http://www.infopak.gov.pk/BasicFacts.aspx

    سائٹ چونکہ سرکار کی ہے لہذا انگریزی میں ہے ۔ یہ ایک قومہ المیہ ہے کہ جس ملک کی بمشکل دو فیصدآبادی بھی انگریزی نا بولتی ہو وہاں انگریزی کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہو ۔ یہ اسی سازش کی ایک کڑی ہے جسمیں پاکستان کے عوام کو اقتدارِ اعلٰی سے محروم رکھنا ہے اور یوں پاکستان کی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیا جائے۔ اور عام آدمی جو کہ اردو بول سمجھ لیتا ہے اسے سرکار دربار سے بیگانہ رکھا جائے اور یوں وہ اپنے ہی ملک سے بیگانہ ہوجائے ۔ میری اس کوشش کا ایک مقصد یہ بھی ہے ۔ کہ کسی نا کسی درجے میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلوانے کے لئیے ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
    خیر اندیش
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

  7. منظر نامہ نے لکھا:

    بہت شکریہ جاوید صاحب۔ میں اب نتائج کا اعلان کر چکی ہوں۔ امید ہے تمام قارئین آپ کی بتائی ہوئی انفارمیشن دیکھ لیں گے۔

    ماوراء

  8. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین نے لکھا:

    ماوراء بہن !
    ایک بات کی معذرت چاہتا ہوں کہ میں نے آپکو عمار صاحب سمجھتے ہوئے لفظ ُمحترم، لکھ کر ًمخاطب کرتا رہا ہوں ۔ امید ہے آپ میری کوتاہی سے در گز کریں گی۔

  9. منظر نامہ نے لکھا:

    نہیں کوئی بات نہیں جاوید بھیا۔ :smile

  10. فیصل نے لکھا:

    میرے خیال میں‌اردو قومی جبکہ انگریزی ہی سرکاری زبان ہے۔
    مثٌآ آپ یونیورسٹی کا امتحان یا سی ایس ایس اردو میں‌نہیں‌دے سکتے، ورنہ ایسا نہ ہوتا اگر اردو بھی سرکاری زبان ہوتی۔


اپنی رائے کا اظہار کریں۔

اگر آپ کے ویب براؤزر میں جاوا اسکرپٹ فعال ہے تو آپ درج ذیل خانوں میں براہ راست اردو لکھ سکتے ہیں۔ اردو میں شائع ہونے والے تبصرے ترجیحی بنیاد پر شائع کیے جائیں گے۔ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ اس پر فخر کیجئے۔ اردو کی ترویج میں اپنا کردار ادا کیجئے۔






-