اگست 2008 کے بلاگ: حصہ سوئم

اس ہفتہ کے منتخب بلاگ پر تبصرہ کے ساتھ منظرنامہ پر آپ کے میزبان حاضر ہیں۔

اس ہفتہ اردو بلاگنگ میں کافی تحاریر پڑھنے کو ملی ہیں جو بلاشبہ اپنے اندر معلومات اور افادیت رکھتی ہیں۔ کیا خیال ہے ماوراء؟

ہاں عمار، اس ہفتہ اردو بلاگز واقعی کافی فعال رہے ہیں۔ تو کون سی تحریر سب سے پہلے ہے؟

شروع کرتے ہیں دریچہ کے بلاگ سے۔ ان کے بلاگ پر دو نئی تحاریر سامنے آئی ہیں اور دونوں ہی اپنی جگہ دلچسپ اور اہم ہیں۔ پہلی تحریر تھی ایس ایم ایس اور مسڈ کالز کلچر۔ یہ تحریر پاکستان میں موبائل فون کے غلط استعمال کے بارے میں عام رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ دریچہ نے لکھا ہے کہ کیسے وقت بے وقت مسڈ کالز اور بے معنی ایس ایم ایس بھیج کر تنگ کیا جاتا ہے۔ پھر اسی حوالہ سے اپنی زندگی کے ایک خطرناک تجربہ کا ذکر کیا ہے کہ کیسے اسی مسئلہ کی وجہ سے ان کے ابو کو سخت تکلیف میں طویل وقت گزارنا پڑا۔ درحقیقت یہ انتہائی سبق آموز تحریر ہے۔

دریچہ ہی کے بلاگ پر ایک اور دلچسپ تحریر ہے کیسے کیسے لوگ۔ یہ بلاگ پاکستان اور بیرون پاکستان ٹھگوں اور ناٹک کرکے فراڈ کرنے والوں کے چند واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ جی ٹی روڈ کے ایک فقیر سے لے کر برطانیہ کے ایک انکل تک کے قصے لکھنے کے بعد لکھتی ہیں کہ

“سوچتی ہوں ہم پاکستانی تو فراڈ میں بھی ابھی تک پرانے طریقوں پر اکتفا کیے بیٹھے ہیں۔”

جی ماوراء۔۔۔!

جیسا کہ ماہ رمضان المبارک شروع ہوچکا ہے۔ تو قارئین کو ہماری جانب سے ماہ رمضان کی آمد بہت مبارک ہو اور اللہ تعالی ہمیں اس مبارک مہینے میں ڈھیر ساری عبادت اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین!

ماہ رمضان کے حوالہ سے کافی بلاگز پر مبارکباد کی تحاریر سامنے آئی ہیں لیکن حکیم خالد کے بلاگ پر ایک مفید اور معلوماتی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے جس کا عنوان ہے روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے۔ اس میں حکیم خالد نے روزہ کے جسمانی فوائد بیان کیے ہیں اور ساتھ ہی غذا متوازن رکھنے کے لیے بھی چند باتیں بیان کی ہیں جنہیں ذہن نشین رکھنا ضروری ہے۔

ہاں ماوراء! بالکل۔ اور رمضان کے حوالہ سے تمہارے بلاگ پر بھی اچھی تحریر ہے رمضان مبارک جس میں تم نے ناروے میں موجود مسلمانوں کی رمضان اور روزے کے حوالہ سے سوچ کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ابوشامل کے بلاگ پر بھی ایک تحریر رمضان مبارک ہے جس میں رمضان کی مبارکباد کے ساتھ ساتھ آرٹ کا ایک شاہکار بھی موجود ہے۔

عمار! شگفتہ کے بلاگ کا ذکر بھی کرتے چلیں کہ اب کے ان کا بلاگ بھی فعال نظر آیا اور دو دلچسپ تحاریر بلاگ کی زینت بنیں۔ پہلی تحریر تھی کوئی ہے جو کہ پکوڑوں سے اپنی رغبت کے اظہار میں تھی جس کے آخر میں شگفتہ لکھتی ہیں:

تمام سگھڑ خواتین ، کھانے پینے کے/کی شوقین اور پکوڑے بنانے کے / کی ماہرین توجہ پلیز ۔ ۔ ۔ مجھے پکوڑے بنانے کی مختلف تراکیب جمع کرنے میں مدد فرمائیں کہ مجھے پکوڑوں سے انتہائی رغبت ہے clip_image001

چاہے مجھے ایمیل کر دیں ، چاہے اپنے بلاگ پر لکھیں
اگر اپنے اپنے بلاگ پر ترکیب لکھیں تو میں پکوڑوں کی خاطر مقابلہ کروانے کو بھی تیار ہوں مقابلہ کا انعام میں منظر نامہ کی جیب سے نکلوانا ہے ان شآءاللہ

اچھا۔ تو زور کس پر ہوا ماوراء؟ پکوڑوں کی ترکیب پر یا منظرنامہ پر؟ :)

اس پر تو شگفتہ ہی کچھ روشنی ڈال سکیں۔

شگفتہ کے بلاگ پر حالیہ تحریر جہیز لکھی گئی ہے جو بیش قیمت جہیز دینے، جہیز کی طلب کرنے اور اس قبیح رسم کے خلاف ہے۔ اس پوسٹ میں شگفتہ ایک شادی کا دلچسپ واقعہ بیان کرتی ہیں کہ جب دولہا نے عین نکاح سے پہلے اچانک لڑکی والوں سے ایک گاڑی کا مطالبہ کردیا تو نکاح خواں مولانا صاحب نے کیسے اس لڑکے کی درگت بنائی اور اسے اسٹیج سے چلتا کرکے ایک مخلص اور باعتماد لڑکے سے لڑکی کا نکاح کروادیا۔

عمار،تمہارے پاس اگلی تحریر کون سی ہے؟

میرے پاس بدتمیز! یعنی موصوف بدتمیز کی کچھ تحاریر۔ :) ان دنوں ان کے لکھنے کا زیادہ تر رجحان امریکہ میں جاری صدارتی الیکشن کی مہم پر رہا ہے۔ جیسے ایک تحریر Joe Biden ہے جو ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار اوباما کے وائس پریزیڈنٹ منتخب کرنے پر ہے۔ اس پوسٹ میں بدتمیز نے سینیٹر جو بائیڈن کے بارے میں لکھا ہے اور اوباما کے فیصلہ کا جائزہ لیا ہے۔ اسی طرح ایک اور پوسٹ سنو، دیکھو، سمجھو اور سیکھو۔ اس میں اوباما اور ہیلری کے مابین پیدا ہونے والی تلخی اور اور ہیلری کلنٹن کی جانب سے اوباما پر کیے جانے والے حملوں اور ان کے جواب میں اوباما کے پر وقار انداز کے سبب اپنی سوچ بدلنے کا ذکر ہے۔ اسی حوالہ سے ایک اور پوسٹ Gustav بھی لکھی ہے جو جان مکین کے وائس پریزیڈنٹ کے اعلان پر ہے۔ بدتمیز نے جان مکین کے اس فیصلے پر تنقید بھی کی ہے۔ آغاز ہی میں لکھتے ہیں:

“بالآخر جان مکین نے اپنی وائس پریزیڈنٹ کا اعلان کر ہی دیا۔ یہ الاسکا کی گورنر سارا پیلن ہیں۔ میں نے اوبامہ کے متوقع امیدواروں کی کوالیفیکیشن لکھی تھی۔ خاتون کی کوالیفیکشن صرف اتنی ہے کہ یہ خاتون ہیں۔ کیا سارا کو منتخب کرنا جان مکین کی شکست خوردگی کا اعتراف ہے کہ وہ اوبامہ سے لڑے بغیر ہی شکست خوردہ محسوس کر رہے ہیں جو ان کو ہیلری کے 18 ملین کی فکر پڑ گئی؟”

جی ماوراء، آپ کے پاس اگلی تحریر کون سی ہے۔

عمار، ابوکاشان ان دنوں اپنے بلاگ پر عمرانیات کے عنوان سے آپ بیتی لکھ رہے ہیں جس کی ابھی تیسری قسط سامنے آئی ہے تاہم یہ اقساط کافی مختصر مختصر ہیں۔ لکھنے کا انداز متاثر کن اور دلچسپ ہے۔ اس کے علاوہ مکی کا بلاگ بھی ان دنوں خاصا فعال نظر آرہا ہے۔ خوبی یہ ہے کہ مکی اپنے بلاگ پر آزاد مصدر پروگرامز کے بارے میں لکھ رہے ہیں جیسے یہ تحریر ہے کہ VIA کا Xorg ڈرائیور آزاد مصدر۔ ایسے ہی ایک Sun نے Java UI Toolkit آزاد مصدر کردی۔ اسی طرح کی مزید تحاریر بھی مکی کے بلاگ پر پڑھنے کو ملی ہیں جن کا مقصد یقینا صارفین کو آزاد مصدر پروگرامز کی طرف راغب کرنا اور چوری شدہ سافٹ وئیر کے استعمال سے روکنے کا ذہن بنانا ہے۔

عمار، آخر میں آپ کس کے بارے میں بتانا چاہیں گے۔

میرے پاس ایک آخری چیز ہے ، اور وہ ہے عمیر سلام کی سلام بازار کمیونٹی جس کا ذکر انہوں نے ہمارے ساتھ اپنے انٹرویو میں بھی کیا تھا۔ ان دنوں یہاں حساس کا سفرنامہ امریکہ کے موضوع پر تحاریر سامنے آرہی ہیں جن کی حال ہی میں تیسری قسط لکھی گئی ہے۔ سلام بازار کمیونٹی فری بلاگ بنانے کی سہولت فراہم کررہی ہے جو کہ خوش آئند ہے تاہم انہیں اردو فونٹس استعمال کرنے چاہئیں یا کم از کم تاہوما تاکہ اردو بلاگز کی تحاریر آسانی سے پڑھی جاسکیں۔

یہ تھیں اگست کے آخری ہفتے کی کچھ منتخب تحاریر۔ اگلی قسط کے ساتھ پھر حاضر ہوں گے ان شاء اللہ۔

خدا حافظ۔

مصنف: منظر نامہ | زمرہ: اس ہفتے کے بلاگ |



7 تبصرے برائے تحرير “اگست 2008 کے بلاگ: حصہ سوئم”

  1. محمد وارث نے لکھا:

    السلام علیکم،

    بہت اچھا سلسلسہ ہے یہ، لیکن کیا منظر نامہ جو بلاگز تبصروں کیلیئے منتخب کرتا ہے اس کا کوئی معیار ہوتا ہے یا فقط اپنی پسند و نا پسند۔

    مثلاً ابھی چند دن پہلے مایہ ناز شاعر احمد فراز انتقال کر گئے اور ان کی وفات پر کئی بلاگز پر انکے کلام کے ساتھ انکے متعلق بھی لکھا گیا لیکن منظر نامہ نے تو اس سانحہ عظیم کی ہوا تک نہیں لگنے دی۔

    شاید منظر نامہ کو بھی پکوڑے بہت پسند ہیں :dsadsad:

  2. منظر نامہ نے لکھا:

    وعلیکم السلام وارث بھائی! پکوڑوں کی تو خیر کیا ہی بات۔ :p
    فی الحال تو اس سلسلہ کے لیے نہ کوئی معیار مقرر ہے اور نہ ہی پسند نا پسند کا معاملہ۔ تجرباتی مراحل میں ہیں ابھی۔ ان شاء اللہ آہستہ آہستہ بہتر ہوتا جائے گا۔ احمد فراز کے حوالہ سے کسی تحریر کا ربط شامل نہ کرنا سہوا ہوا۔
    ۔۔۔۔۔
    عمار

  3. محمد وارث نے لکھا:

    شکریہ عمار، منظر نامہ کی ترقی اور بہتری کیلیئے میں دعا گو ہوں۔

    والسلام

  4. شگفتہ نے لکھا:

    اچھا۔ تو زور کس پر ہوا ماوراء؟ پکوڑوں کی ترکیب پر یا منظرنامہ پر؟ :)

    ————

    السلام علیکم

    عمار ، یہ آپ شک تو نہیں کر رہے ناں :smile
    میں بس جیسے جیسے آمد ہوتی گئی تھی لکھتی گئی ۔ مقابلہ کا بھی ایسے ہی آمد ہوئی تو لکھ دیا تھا تفریح سوجھ رہی تھی اس وقت جب بلاگ لکھ رہی تھی :smile ۔ دراصل اردو سیّارہ ہو یا وینس جہاں بھی جائیں ، موضوعات میں تنوع کم دیکھنے میں آتا ہے سیاست طنز تنقید و دیگر خشک و سنجیدہ عنوانات پر تحریریں زیادہ اور ہلکی پھلکی تحریریں کم ملتی ہیں ۔ اگر اس ریشو میں توازن کچھ لایا جا سکے تو ہر ماہ کوئی ہلکا پھلکا سا مقابلہ رکھ لیا جائے جس میں تمام یا دلچسپی رکھنے والے بلاگرز شریک ہو سکیں ۔ موجودہ ماہ سے آغاز کریں تو ماہِ رمضان کی مناسبت سے پکوڑوں کی مختلف تراکیب کا مقابلہ ہو سکتا ہے اس کے لیے کوئی ایک دن یا ایک ہفتہ کا دورانیہ رکھا جا سکتا ہے ، مقابلہ کی نوعیت دو طرح سے ہو سکتی ہے ایک یہ کہ خواتین اور حضرات بلاگرز کے درمیان مقابلہ ہو یا پھر عمومی ہو یعنی سب کی انفرادی شرکت ہو ، مزید تفصیلات کے لیے م س ن پر میٹنگ رکھ لیں گے کہ یہ سب کیسے کیا جائے ۔

    اگر ہر ماہ کچھ مختلف کرنے کا موڈ ہو تو ہر بار کسی نئے آئیڈیا کو لیا جا سکتا ہے ۔

  5. بدتمیز نے لکھا:

    شگفتہ کا ابھی تک زور پکوڑوں پر ہی ہے۔ :d ایڈریس دیں میں مہینہ بھر کے پکوڑے تو بھجوا ہی دوں :p

  6. شگفتہ نے لکھا:

    السلام علیکم

    اتنی شاندار آفر ہے یہ تو ، تھینکس :smile

  7. محمد وارث نے لکھا:

    واہ، پکوڑوں‌ کا مقابلہ، اب تو کنفرم ہو گیا کہ سبھی پکوڑوں‌ کے قتیل ہیں :dsadsad:


اپنی رائے کا اظہار کریں۔

اگر آپ کے ویب براؤزر میں جاوا اسکرپٹ فعال ہے تو آپ درج ذیل خانوں میں براہ راست اردو لکھ سکتے ہیں۔ اردو میں شائع ہونے والے تبصرے ترجیحی بنیاد پر شائع کیے جائیں گے۔ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ اس پر فخر کیجئے۔ اردو کی ترویج میں اپنا کردار ادا کیجئے۔






-